تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 415
ولد کے ماننے سے اللہ تعالیٰ میں کئی نقائص ماننے پڑتے ہیں۔اوّل۔ولد کے لئے شہوت کا ہونا ضروری ہے اور شہوت دوسری چیز کی طرف توجہ کرنے اور اس کی احتیاج پردلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔دوم۔ولدکے لئے بیوی کا ہونا ضروری ہے اور یہ ایک اور احتیاج ہے جس سے اللہ تعالیٰ پاک ہے۔سوم۔بیٹے میں جزئیت ہوتی ہے یعنی وہ اپنے باپ کا جزو ہوتاہے اور اس کا خون اس میں شامل ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا بھی ولد تسلیم کیا جائے تو اُس کے متعلق یہ ماننا پڑے گا کہ اُس کے اجزاء بھی تقسیم ہوئے۔چہارم۔بیٹا ماننے سے اُس کا فنا ہونا لازم آتا ہے کیونکہ بیٹے کی ضرورت ہمیشہ فانی وجودوں کو ہی ہوتی ہے ورنہ جو چیزیں اپنے مقصد پیدائش تک قائم رہنے والی ہیں اُن کو کسی قائم مقام کی ضرورت نہیں جیسے سورج، چاند، ستارے، آسمان اور زمین وغیرہ ہیں۔یہ چیزیں چونکہ اُس وقت تک چلتی چلی جائیں گی جب تک کہ ان کی ضرورت قائم ہے۔اس لئے نہ تو یہ فنا ہوتی ہیں اور نہ اُن کے کسی قائم مقام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن انسان چونکہ فنا ہو جاتا ہے اس لئے اسے قائم مقام کی بھی ضرورت ہوتی ہے پس اگر خدا تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کیا جائے تو اس کے لئے بھی فنا ماننی پڑے گی۔حالانکہ وہ اس نقص سے منزّہ ہے۔دوسری بات لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ میں یہ بیان کی ہے کہ ایک بادشاہ کو بعض دفعہ بیٹے کی ایک اچھے مدد گار کے طور پر ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اُس کی سلطنت کو وسیع کر سکے۔مگر خدا تعالیٰ کو کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ مدد کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی ایسی چیز ذاتی کوشش سے حاصل نہ ہو سکے۔مگر جب تمام مخلوق خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو پھر اُسے کسی مدد گار کی کیا ضرور ت ہے؟ بیٹے کی ضرورت تو تب ہو جب اُسے نئی فتوحات کی ضرورت ہو یا نئے ممالک پر حکمرانی کی خواہش ہو۔لیکن جب ہر چیز اُسی کی پیدا کردہ ہے تو پھر اُس نے بیٹا کیسے بنا لیا؟ پھر بعض اوقات بادشاہ کو یہ مشکل پیش آجاتی ہے کہ ملک کا کوئی حصّہ باغی ہو جاتا ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ سلطنت کے شورش زدہ یا دُور افتادہ علاقوں پر کنٹرول کرنے کے لئے کوئی دست و بازو بنے اور مدد گار کے طور پر کام آئے مگر اللہ تعالیٰ کی حکومت سے تو کوئی بھی باہر نہیں۔کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ سب کے سب اس کے مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ایسی صورت میں اُس کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ اُس نے ایک شخص کو اپنا بیٹا بنا لیا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ پھر ہو سکتا تھاکہ کوئی کہہ دیتا کہ اَب تو اُس کا کام چل گیا ہے لیکن زمین و آسمان کے پیدا کرنے کے وقت تو کام