تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 409

کے لحاظ سے اس گروہ میں شامل ہیں جس کے متعلق مَنْ اَظْلَمُکے الفاظ آتے ہیں اور جو خدائی منشاء کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں۔اُولٰٓىِٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىِٕفِيْنَ۔فرماتا ہے کہ کیسے تعجب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا گھر ہو اور پھر یہ ذلیل لڑائیاں ہوں۔حالانکہ اُن کے لئے یہ ہر گز مناسب نہ تھا کہ اس قسم کی ظالمانہ حرکت کرتے۔یا ان کا کوئی حق نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے گھر میں عبادت کرنے سے دوسروں کو روکتے۔ان کو تو چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ کے گھر جاتے وقت خوف سے اُن کا دل لرزتا اور اس قسم کے فسادات پر کمربستہ نہ ہوتے۔لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔فرماتا ہے چونکہ یہ لوگ ہمارے گھر کو برباد کرنا چاہتے ہیں اس لئے ہم بھی ان کے گھروں کو برباد کر دیںگے اور یہ دنیا میں بھی رُسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں عذاب عظیم ملے گا۔کیونکہ جنّت خدا تعالیٰ کا گھر ہے جس کا ظل مسجد ہے۔جب انہوں نے مسجدوں کو ویران کر دیا تو ان کو اگلے جہان میںکہاں امن میسر آسکتا ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیںکہ مساجد کی پناہ میں آنے والے لوگوں کو اسلامی شریعت نے قانون سے بالا سمجھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ(رکوع۱۳) میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حکومتِ وقت یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم اور آپ کی جماعت کے خلاف خفیہ کارروائیاں کرنے کے لئے ایک مسجد تیار کی تھی اور خودرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست بھی کی تھی کہ آپ تشریف لا کر اس میں نماز پڑھیں اور دُعا فرمائیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ پر حقیقت کھول دی اور بتادیا کہ اِن لوگوں نے یہ مسجد صرف اس لئے تیار کی ہے کہ ان کی منافقت پر پردہ پڑا رہے اور یہ لوگ یہاںجمع ہو کر اسلام کے خلاف منصوبے کرتے رہیں اور مسلمانوں کو تباہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد کو گروا دیا اور اس کی جگہ کھاد کا ڈھیر لگوادیا۔پس مسجد اپنی ذات میں کسی مجرم کو نہیں بچا سکتی۔اگر مسجد میں کوئی بُرا کام کیا جائے گا تو اس کو بُرا سمجھا جائے گا اور اگر اچھا کام کیاجائے گا تو اس کو اچھا سمجھا جائے گا بلکہ اور مساجد تو الگ رہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کعبہ کے متعلق بھی فرمایا ہے کہ وہ کسی مجرم یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو پناہ نہیں دیتا اور نہ قتل کر کے بھاگنے والے کی پناہ گاہ بن سکتا ہے اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو بچا سکتا ہے۔بلکہ ایسے لوگ پکڑے جائیں گے اور انہیں قانونی گرفت میں لایا جائے گا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کو اطلاع پہنچی کہ اِبْنِ اَخْطَل جس کے قتل کا آپؐ نے حکم دیا تھا کعبہ کے پردوں کو پکڑ کر کھڑا ہے تو آپؐ نے فرمایا اُسے وہیں قتل کر دو۔چنانچہ اسے قتل کر دیا گیا(السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر مغاذیۃ ؐفتح مکۃ)