تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 394

یہاں بھی متی باب۱۰ والے حوالہ کا مضمون ہے اور اس میں بھی غیر اسرائیلیوں کو کتّےقرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ روٹی کتوّں کے لئے نہیں بلکہ صرف اسرائیلیوں کے لئے ہے۔اس کے مقابلہ میں اسلام اپنی تبلیغ کو کسی خاص قوم تک محدود نہیں کرتا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق فرماتا ہے قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) یعنی اے رسول! تو کسی ایک قوم کو نہیں بلکہ تمام دنیا کی قوموں کو مخاطب کر کے کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔دوسری جگہ سورۂ سبا میں فرماتا ہے وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (سبا :۲۹) یعنی ہم نے تجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو مومنوں کو خوشخبری دینے والا اور کافروں کو ہوشیار کرنے والا ہے لیکن انسانوں میں سے اکثر اس حقیقت سے آگاہ نہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیںکَانَ کُلُّ نَبِیٍّ یُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِہٖ خَآصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلیٰ کُلِّ اَحْمَرَوَ اَسْوَدَ۔(مسلم کتاب المساجد،باب المساجد و مواضع الصلوٰة)یعنی مجھ سے پہلے جس قدر انبیاء تھے وہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے مگر مجھے ہر اسود و احمر کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔غرض قرآن کریم میں بھی یہ دعویٰ موجود ہے اور ر سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی بتا دیا ہے کہ آپ کسی خاص قوم یا خاص ملک کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے۔ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً (مسلم کتاب المساجد)۔مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے۔پس گو بظاہر اسلام اور عیسائیت کے متبعین کا دعویٰ مشترک معلوم ہوتا ہے۔مگر عیسائی ایسی بات کہتے ہیں جو اُن کے اپنے مذہب کے خلاف ہے۔جب خدا تعالیٰ نے عیسائیت کو غیر مذاہب والوں کے لئے رکھا ہی نہیں تو وہ اُسے قبول کر کے نجات کس طرح حاصل کرسکتے ہیں؟ اگر ایک گورنمنٹ کسی کو کہیں جانے کا حکم دے اور وہاں کوئی اَور چلا جائے تو وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔اِسی طرح اگر کوئی غیر اسرائیلی عیسائی ہو جائے گا تو وہ انعام کا نہیں بلکہ سزا کا مستحق ہو گا۔پھر ایک اور نقطۂ نگاہ سے بھی اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق ہے۔اور وہ یہ کہ یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ ہے کہ لَنْ یَّدْ خُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی کہ یہود اور نصاریٰ کے سوا اور کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔یہاں کسی ابتدائی زمانہ کا ذکر نہیں بلکہ یہ ذکر ہے کہ سو، ہزار، لاکھ بلکہ کڑور سال کے بعد بھی یہود اور نصاریٰ کے سوا کوئی اس میں داخل نہیں ہو گا۔مگر اسلام کی تعلیم اس سے مختلف ہے۔وہ دوزخ کے عذاب کو دائمی قرار نہیں دیتا۔بلکہ کہتا ہے کہ کوئی انسان خواہ دہریہ بھی ہو آخر ایک دن جنت میں داخل ہوجائے گا۔کیونکہ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ