تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 390

ہی نہیں۔اور ایک جماعت وہ ہے جو نجات کو اور بھی تنگ کر دیتی ہے اور یہودی صرف یہود کو اور عیسائی صرف عیسائیوں کو ہی نجات کا مستحق قرار دیتے ہیں اَور کسی کو نہیں۔چنانچہ عیسائیوں میں سے بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ دوزخ دو ۲ قسم کی ہے۔ایک مستقل اور دوسری عارضی۔وہ کہتے ہیں کہ اگر عیسائی دوزخ میں جائیں گے تو وہ عارضی دوزخ میں جائیں گے۔پھر وہاں سے نکال لئے جائیں گے۔انہیں مستقل دوزخ میں داخل نہیں کیا جائے گا۔اور بعض کہتے ہیں کہ جس کے دل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی ذرہ بھر بھی محبت ہو گی۔وہ کسی حالت میں بھی دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا۔اس عقیدہ کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔اور غلطی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ یہود نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ گو عیسائی بھی توریت اور بائیبل پر ایمان لاتے ہیں مگر وہ جنت میں داخل نہیں ہو ںگے۔اور عیسائیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ گو یہود بائیبل پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ جنت میں داخل نہیں ہونگے۔بلکہ صرف عیسائی ہی اس میں داخل ہوںگے۔ترتیب مضامین کے لحاظ سے ان تین آیتوں میں سے پہلی آیت سورہ بقرہ کے نویں رکوع میں آتی ہے۔اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کا ذکر کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہودی آپؐ کی مخالفت کرتے ہیں۔مگر اُن کی یہ مخالفت ایمانداری کے طریق سے نہیں۔یوں مخالفت ناجائز نہیں ہوتی کیونکہ اگر کوئی بات کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو وہ مخالفت کرنے کا حق رکھتا ہے اور اگروہ کوئی بات غلط سمجھ کر مخالفت کر تا ہے تو وہ معذور ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص کسی مجلس میں بات سُن کر اور سمجھ کر جاتاہے اور پھر باہر جا کر اُس کی مخالفت شروع کر دیتا ہے تو اُس کی مخالفت دیانتداری پر مبنی نہیں ہوتی۔پس مخالفت جائز ہے بشرطیکہ وہ دیانتداری سے ہو۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر قسم کی علمی ترقی رُک جاتی۔کیونکہ تمام علمی ترقیات اختلاف سے وابستہ ہوتی ہیں۔پس مخالفت جائز ہے مگر وہ دیانت داری پر مبنی ہونی چاہیے اور اظہار اختلاف کا طریق شریفانہ ہونا چاہیے کسی قسم کی ضِد اور ہٹ نہیں ہونی چاہیے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ ضِد اور ہٹ سے کام لیتے ہیں اور جان بوجھ کر قرآن کریم کی باتیں غلط رنگ میں بیان کرتے ہیں۔پس اِن کی باتیں ایمانداری پر مبنی نہیں۔ان کی مخالفت اُسی صورت میں دیانت داری پر مبنی ہو سکتی ہے جبکہ یہ حقیقۃً ان کو غلط سمجھتے ہوں اور اُن کے غلط ہونے کی دلیل بھی دیتے ہوں۔لیکن اگر یہ لوگوں کے سامنے حقیقت پر پردہ ڈال کر اُسے غلط طریق سے پیش کرتے ہیں یا اس کے مقابلہ میں کوئی دلیل نہیں دے سکتے تو پھر یہ محض اُن کی شرارت ہے اور یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ اُن کو یہ یقین ہے کہ ہم آگ میں داخل نہیں ہو ںگے۔اور جب کوئی قوم نجات کو ورثہ کے ساتھ وابستہ کرتی ہے تو اس قوم میں سے تقویٰ مٹ جاتا ہے۔دنیا میں بالعموم دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔بعض احسان اور محبت سے