تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 389

للّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔یعنی اہل کتاب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد کی زندگی کے صرف وہی مستحق ہیں اور جنت میں داخل ہونے کے وہی حقدار ہیں۔اور کوئی قوم جنت میں داخل نہیں ہو گی۔اس سے ظاہر ہے کہ بعض یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ انہیں عذاب ملے گا ہی نہیں بلکہ وہ سیدھے جنت میں جائیں گے اور کسی غیریہودی کو جنت نہیں ملے گی۔اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتا ہے کہ اِن سے پوچھو اور دریافت کرو کہ اگر یہ صحیح ہے کہ جنت کے صرف تم ہی مستحق ہو اور کوئی قوم اس میں داخل نہیں ہو گی تو تم رضائے الٰہی کے لئے وہ کوشش کیوں نہیں کرتے جو موت کے مترادف ہوتی ہے۔یا اس بات کے لئے مباہلہ کیوں نہیں کرتے۔دوسروں کو تو تم اس سے محروم قرار دیتے ہو اور جنت صرف اپنے لئے مخصوص کرتے ہو۔لیکن اگر یہ درست ہے تو تمہارے لئے تو خدا کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا اور اس کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرنا اوّلین فرض ہو جاتا ہے۔پھر تم کیوں ایسا نہیں کرتے۔تیسری جگہ جہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے یہ آیت ہے۔اصل میں یہ دو الگ الگ فقرے ہیں جن کو عربی زبان کے محاورہ کے مطابق مختصر کر دیا گیا ہے اصل عبارت یوں ہے کہ وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ لَنْ یَّدْ خُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا وَقَالَتِ النَّصَارٰی لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ نَصَاریٰ یہود کہتے ہیں کہ جنت میں صرف یہود ہی داخل ہونگے اور کوئی داخل نہیں کیا جائے گا۔اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف نصاریٰ ہی داخل ہونگے اور کوئی داخل نہیں ہو گا۔پس یہ ایک فقرہ نہیں۔کیونکہ کوئی یہودی یہ نہیں کہتا کہ جنت میں صرف یہود اور نصاریٰ ہی داخل ہوں گے اور نہ نصاریٰ میں سے کوئی کہتا ہے کہ صرف یہود اور نصاریٰ ہی جنت میں داخل ہوں گے۔پس یہ الگ الگ فقرے ہیں۔جن کو یکجا کر دیا گیا ہے۔یہ تیسرا دعویٰ ہے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔کہ غیروں کو تو اہل کتاب جنت سے محروم کرتے ہی تھے ان کا آپس میں بھی اس قدر اختلاف ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو جنت سے محروم قرار دیتا ہے۔گویا ایک جماعت کا تو یہ دعویٰ ہے کہ یہودی دوزخ میں جا تو سکتے ہیں مگر وہ جلدی ہی نکال لئے جائیں گے۔چنانچہ سیل نے اپنے ترجمہ قرآن میں لکھا ہے کہ یہود کے نزدیک یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ کوئی یہودی خواہ کیسا ہی گنہگار ہو گیارہ یا بارہ ماہ سے زیادہ دوزخ میں نہیں رہے گا۔سوائے دو یہودیوں داتھن اور ایبی رام کے یا سوائے دہریوں کے جو ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔اسی طرح جیوش انسائیکلو پیڈیا میں بھی طالمود کے حوالہ جات سے یہود کے اس عقیدہ کو ثابت کیا گیا ہے(جیوش انسا ئیکلو پیڈیا زیر لفظ Gehenna) لیکن دوسری جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہود کو عذاب ملے گا