تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 385
انسان کے دماغ ،قلب، جسم اوررُوح پر اُسی کا قبضہ ہے اس لئے فرمایا کہ ان پر ہم چوٹ لگا ئیںگے تم انہیں ہمارے لئے چھوڑ دو۔ہم ان کے دماغ پر بھی چوٹ لگائیں گے۔ہم ان کے فکر پر بھی چوٹ لگائیں گے۔ہم ان کے قلب پر بھی چوٹ لگائیںگے۔ہم ان کی رُوح پر بھی چوٹ لگائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہود مدینہ نے زبانی باتوں سے گزر کر سیاسی طریقوں سے مسلمانوں کو دکھ پہنچانا چاہا اور قتل تک کی سازشیں کیں۔تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن سے جنگ کی اجازت ہوئی اور مسلمانوں کی قلیل جماعت کے ہاتھوں یہود سخت ذلیل اور رُسوا ہوئے۔وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ اور نماز کو (مطابق شرائط) قائم رکھو اور زکوٰۃادا کرو اور (یاد رکھو کہ ) جو نیکی بھی تم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا اپنی ذات کے لئے آگے بھیجوگےتم اسے اللہ کے پاس پاؤ گے۔اللہ (تعالیٰ) تمہارے تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۱۱۱ اعمال کو یقیناً دیکھ رہا ہے۔تفسیر۔خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ تم ان لوگوں کو سزا نہ دو بلکہ اسے ہم پر چھوڑ دو چونکہ مسلمانوں پر گراں گزر سکتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب تمہیں دشمن کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کو دیکھ کر غصہ آئے اور تمہارے لئے صبر کرنا مشکل ہو جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھک جائو اور نمازوں میں ہم سے دُعائیں مانگو۔کہ اے اللہ تو خود ان کو ہدایت دے اور اگر ان کے لئے ہدایت مقدر نہیں تو ہمیں ان کے ضر ر سے محفوظ رکھ۔اور انہیں ہمارے راستہ سے ہٹا دے۔وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ۔اور دوسرا علاج یہ ہے کہ تم زکوٰۃ کے ذریعہ غرباء کی مدد کرو۔یتامیٰ و مساکین اور بیوگان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئو۔قوم کے کمزور طبقہ کو اونچا کرنے کی کوشش کرو۔اور وہ لوگ جو کفار میں سے نیک نیتی کے ساتھ مذہب کی تحقیق کرنا چاہیںاُنکو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرو۔اس میں اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے ہم بچانا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو حسنِ سلوک کے ذریعے اپنی طرف کھینچ لو۔جب وہ ان