تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 384
آنے کے بعد پھر تمہیں کافر بنادیںگے۔فَاعْفُوْا۔گناہوں کو تین رنگ میں مٹایا جاتا ہے۔اوّل دنیوی نتائج کے لحاظ سے جیسے گناہگار کو جسمانی سزا سے بچالینا۔دوم اُخروی نتائج کے لحاظ سے جیسے گنہگار کو شرعی سزا سے بچا لینا۔سوم گناہ کے زنگ اور اُس کے سیلان تک کو مٹا دینے کے لحاظ سے۔یہ عفو کامل سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اس میں دل پر جو گناہ کا زنگ لگ جاتا ہے اس کو بھی مٹا دیا جاتا ہے۔چونکہ اس جگہ مسلمان مخاطب ہیں۔اس لئے اس جگہ اُخروی شرعی سزا مراد نہیں بلکہ دنیوی سزامراد ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ تم ان کو خود سزا دینے کی کوشش نہ کرو۔بلکہ عفو سے کام لو۔فَاعْفُوْا کی فاء سے ظاہر ہے کہ یہ حکم اہل کتاب کے کسی پہلے فعل کے نتیجہ میں دیا گیا ہے۔اور وہ پہلا فعل یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کو پھر کافر بنانا چاہتے تھے۔پس فَاعْفُوْا کا یہ مطلب نہیں کہ چونکہ یہ لوگ تمہیں دین سے منحرف کرنا چاہتے ہیں اس لیے تم انہیں معاف کر دو کیونکہ معافی کا موجب ہمیشہ کوئی نیکی ہوا کرتی ہے اور نیکی انہوں نے کوئی کی نہیں بلکہ الٹا یہ خطرناک دشمنی کی کہ مسلمانوں کی مرکزیت کو تباہ کر کے پھر انہیں لا مرکزیت کی طرف لے جانے کی کوششیں شروع کردیں۔ایسی صورت میں اُن کی کسی نیکی کو اس معافی کا موجب نہیں سمجھا جا سکتا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انہوں نے کوئی نیکی نہیں کی بلکہ ذکر یہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایک ایک کر کے پھر مرتد کرنا چاہتے ہیں تو ایسی صورت میں فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا کا حکم کیوں دیا گیا؟سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں عَفو اور صَفح سے عفو کی تین مذکورہ بالا قسموں میں سے صرف اوّل قسم مراد ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ تم انہیں جسمانی سزا دینے کی کوشش نہ کرو۔کیونکہ اُن کے اس فعل کی سزا ہم خود انہیں دیںگے۔اور عَفو کے ساتھ صَفح کو جس کے معنے منہ پھیرلینے کے ہیں اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ نہ صرف اُن کو کوئی سزا نہ دو بلکہ یوں بھی سختی سے پیش نہ آئو۔بلکہ اُن سے اعراض کرو۔اسی لئے فرمایا کہحَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ۔یعنی تم اُن سے درگزر کرو۔یہاں تک کہ اُن کے لئے خدا تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو جائے۔یا اُن پر عذاب نازل ہو جائے۔اس جگہ اَمر سے مراد جہاد کاحکم نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نافذ کرے۔یعنی مختلف عذابوں سے انہیں ہلاک کرے۔آخر جو لوگ جسمانی، قلبی، دماغی اور روحانی لحاظ سے اِتنے بڑے جرائم کے مرتکب ہوجائیں اور یہ جاننے کے باوجو کہ کفّار اُن سے ادنیٰ ہیں پھر بھی مسلمانوں کو کفر کی طرف لوٹانا چاہیں اور پھر یہ لوگ حاسد بھی ہوں اور حسد کا موجب ان کے اپنے نفسوں کی کمینگی اور گندگی ہو تو اُن کو سوائے خدا کے اور کون سزا دے سکتا ہے۔انسان صرف جسمانی سزا دے سکتا ہے۔وہ دماغی فکری، قلبی اور رُوحانی سزا کسی کو نہیں دے سکتا۔یہ قطعی اور یقینی طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے مل سکتی ہے کیونکہ