تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 383

سے بھی ہو سکتا ہے کہ کفر کی طاقت ٹوٹے کیونکہ خدا تعالیٰ کفر کو ناپسند کرتا ہے اور اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا اپنا نفس اس بات کو برداشت نہ کر سکتا ہو کہ کسی غیر مسلم کو زیادہ دولت مِل جائے اور پھر یہ حسد محض نفسانی بھی ہو سکتا ہے جس میں کسی دینی جذبہ کا دخل نہ ہو۔محض دنیوی خواہشات اس کی پشت پر کام کر رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن کا حسد مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْہے۔یعنی یہ حسد اُن کے اپنے نفسوں کی خرابی اور بُخل کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔اس کا موجب مسلمانوں کا کوئی فعل نہیں۔اگر مسلمان ان کو چڑاتے اور اس وجہ سے ان کو غصہ آتا تو پھر حسد کا باعث مسلمان ہوتے لیکن مسلمان تو اُن کی خیر خواہی کرتے اور اُن کی ترقی کی کوشش کرتے ہیں پس اُن کا حسد اُن کے اپنے نفس سے پیدا ہوا ہے۔مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ۔مسلمانوں کو کافر بنانے کی خواہش دو ۲ وجوہ سے ہو سکتی تھی۔اوّل اس وجہ سے کہ اہل کتاب غلطی سے یہ سمجھتے ہوں کہ مسلمانوں کی حالت کفار سے گری ہوئی ہے اِ س لئے بہتر ہے کہ وہ پھر کفر اختیار کر لیں۔دوسرے اہل کتاب غلطی سے نہیں بلکہ علیٰ وجہ البصیرت سمجھتے ہوں کہ مسلمانوں کی حالت اہل مکہ کی حالت سے بھی گری ہوئی ہے اور سمجھتے ہوں کہ اگر یہ اس پہلی حالت پر رہتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر واقع میں اُن کی یہ خواہش نیک نیتی پر مبنی ہوتی تو اور بات تھی مگر ان کی یہ خواہش اس لئے نہیں کہ مکہ والے اِن سے اچھے ہیں بلکہ یہ لوگ محض حسد کی وجہ سے ایسی خواہش کرتے ہیں۔دوسرے یہ خواہش کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ مکہ والوں کی حالت اِن سے ادنیٰ ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے پھر بھی یہ مسلمانوں کو کافر بنا دینے کے درپے ہیں۔پس یہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بھی دشمن ہیں۔اس جگہ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ نے واضح کر دیا ہے کہ باوجود اس بات کے جاننے کے کہ اِس مذہب کو فضیلت حاصل ہے پھر بھی لوگ چاہتے ہیں کہ کفر پھیلے اور ہدایت کا دائرہ زیادہ سے زیادہ تنگ ہو تا چلا جائے۔مسلمانوں کے متعلق اہل کتاب کی جس خواہش کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے قرآن کریم کے بعض اور مقامات میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔چنانچہ سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَدَّتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا يُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ (آل عمران :۷۰)یعنی اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ آرزو رکھتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر دے۔حالانکہ وہ اپنے آپ کو ہی گمراہی میں مبتلا کر رہے ہیں۔اسی طرح سورہ آل عمران میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ(آل عمران:۱۰۱)کہ اے مومنو! اگر تم ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے کسی فریق کی اطاعت کروگے تو وہ تمہارے ایمان لے