تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 381
تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ تک کہ اللہ (تعالیٰ) اپنے حکم کو نازل فرمائے انہیں معاف کر و اور (ان سے ) درگذر کرو۔بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۱۱۰ اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا(پورا ) قادر ہے۔حَلّ لُغَات۔وَدَّ کے معنے چاہنے کے ہیں۔اور وَدُوْدٌ بہت محبت کرنے والے کوکہتے ہیں۔لَوْ کے معنے کاش کے ہوتے ہیں۔اور یہ’’اگر‘‘ کے معنے بھی دیتاہے۔اِسی طرح مصدری معنے بھی دیتاہے۔یَرُدُّوْنَکُمْ۔یہ اَنْ یَّرُدُّوْکُمْ کا قائم مقام ہے۔چونکہ اس جگہ دو مفعول آئے ہیں اِس لئے یہ صَیَّرَکُمْ کے معنے دیتا ہے جس کے معنے بنا دینے کے ہیں۔کُمْ مفعول اوّل اور کُفَّارًا مفعول ثانی ہے۔اور حَسَدًا مفعول لہٗ ہے۔عَفْو کے معنے مٹادینے کے ہیں۔لیکن جب یہ لفظ کسی مذہبی امر کے متعلق ہو تو اس کے معنے گناہ کو مٹا دینے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) صَفَحَ کے معنے ہیں’’پہلو پھیر لیا‘‘۔جب انسان مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو سامنے آتا ہے۔اور اُس کا ناک آنکھ مُنہ نظر آرہا ہوتا ہے۔لیکن جب مقابلہ نہ کرنا چاہے تو دوسری طرف چلا جاتا ہے اس لئے اس کے معنے درگزر کرنا۔مُنہ پھیر لینا۔(المنجد) تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری عمر میں اُن کا پلوٹھا بیٹا اسمٰعیل ؑ ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا اور اس کے بعد اُن کی پہلی بیوی سارہ کے بطن سے اسحاق ؑ پیدا ہوا(پیدائش باب ۱۶ و ۱۸)۔سارہ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ماموں کی بیٹی تھی ان کو خیال تھا کہ میں خاندانی ہوں اور ہاجرہ باہر کی ہے۔اِس لئے وہ اپنا درجہ بڑا سمجھتی تھیں۔اتفاقاً حضرت اسمعٰیل ؑ جو بچے تھے ایک دفعہ حضرت اسحاق ؑ کی کسی حرکت پر یا کسی اور وجہ سے قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔حضرت سارہ نے سمجھا کہ اِس نے میری اور میرے بچے کی تحقیر کی ہے اور قہقہہ مارا ہے شاید یہ بھی خیال کیا کہ یہ اس بات پر خوش ہے کہ یہ بڑا بیٹا ہے اور یہ وارث ہو گا اور اسحاق وارث نہیں ہو گا۔تب انہوں نے غصہ میں آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہاکہ اس کو اور اس کی ماں کو گھر سے نکال دو کیونکہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی