تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 378
اصل بات یہ ہے کہ کوئی سوال زیادتی علم کے لئے ہوتا ہے اور کوئی کج بحثی کے لئے۔کوئی بے ادبی کے لئے ہوتا ہے اور کوئی تحقیر و تذلیل کے لئے۔غرض ہر سوال الگ رنگ رکھتاہے۔معقول انسان کبھی بھی کسی غیر معقول سوال کی دوسرے کو اجازت نہیں دے سکتا۔اگر کوئی لڑکا کالج میں پروفیسر کے سامنے کھڑے ہو کر سوال پرسوال کرتا چلا جائے تو وہ لازماً اُسے ڈانٹے گا۔اور کہے گا کہ تم فضول وقت ضائع کر رہے ہو۔مگر اس کا یہ مطلب نہیںہو گا کہ پروفیسر اپنی کم علمی کی وجہ سے اسے سوال کرنے سے روک رہا ہے۔اسی طرح قرآن کریم نے لغو اور بے ہودہ سوالات کو ناپسند کیا ہے نہ کہ محض سوالات کو چنانچہ سُئِلَ مُوْسیٰ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لوگ جس قسم کے سوالات کیا کرتے تھے۔ان کا نمونہ قرآن کریم کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے۔کہ يَسْـَٔلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً (النّسآء :۱۵۴)یعنی یہ اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو آسمان سے اُن پر ایک کتاب اُتار کرلے آئے۔یہ سوال تو انہوں نے پھر بھی کم کیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو اس سے بھی بڑا سوال کیا گیا تھا۔اور کہا گیا تھا کہ تُو خدا کو پکڑ کر ہمارے سامنے لے آتب ہم ایمان لائیں گے۔اِسی طرح تورات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بات بات پر سوال کیا کرتے تھے۔مگر صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ وہ کہتے ہیں۔ہم اس بات کا انتظار کیا کرتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال پوچھے تاکہ ہم بھی سُن لیں(بخاری کتاب العلم باب القراءة والعرض)۔گویا انہیں اس قدر وقار اور ضبطِ نفس حاصل تھا کہ خود کوئی سوال پوچھنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔بہر حال مسلمانوں کو صرف ایسے سوال کرنے سے روکا گیا ہے جو سنّت اللہ اور قانونِ شریعت کے خلاف ہوں یا اپنے اندر گستاخی اور بے ادبی کا رنگ رکھتے ہوں۔یا جن سے محض وقت کا ضیاع ہوتا ہو۔کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہو۔مجھے یاد ہے حافظ روشن علی صاحب اور میں دونوں حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پڑھا کرتے تھے بعض اور دوست بھی ہمارے اس سبق میں شریک تھے۔حافظ صاحب کی عادت تھی کہ وہ بات بات پر بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے اور بڑی سختی سے جرح کرتے تھے۔ابھی ہم نے بخاری کا سبق شروع ہی کیا تھا اور صرف دو چار سبق ہی ہوئے تھے کہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کے سوالوں سے تنگ آگئے۔وہ سبق کو چلنے ہی نہیں دیتے تھے۔پہلے ایک اعتراض کرتے اور جب حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ اس کا جواب دیتے تو وہ اس جواب پر اعتراض کر دیتے۔پھر جواب دیتے تو جواب الجواب پر اعتراض کردیتے۔اور اس طرح اُن کے سوالات کاایک لمبا