تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 372
میں یہ الفاظ بڑھادئیے گئے ہیں کہ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کیا تمہیں علم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔اور وہ ایسا انقلاب نہایت آسانی سے پیدا کر سکتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی طور پر عیسوی دور وہ پہلا دور ہے جو اس آیت کے دوسرے حصہ کے ماتحت آتا ہے کہ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَاکہ ہمارے احکام جب لوگوں کے ذہنوںسے اُتر جاتے ہیں تو ہم ویسے ہی احکام پھر اتار دیتے ہیں۔یعنی دوبارہ ان کو زندہ کر دیتے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں ایک ایسا نبی آیا جو نئی شریعت نہیں لایا۔اور توارت کے بعض مضامین کو اس نے نمایا ں طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔اسی طرح موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ آپ وہ دوسری قسم کا انقلاب پیدا کریں۔جسے اس آیت کے آخری حصہ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی کبھی انقلاب اس طرحـ بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ کتاب وہی واجب العمل رہتی ہے جو پہلے سے موجود ہو مگرخدا تعالیٰ دوبارہ اس کی مردہ تعلیم کو زندہ کرنے کیلئے ایک انسان اپنی طرف سے کھڑا کر دیتا ہے جو لوگوں کو پھر اس تعلیم پر ازسر نو قائم کرتا ہے۔اِسی کی طرف سورۃ جمعہ میں بھی ان الفاظ میـں اشارہ کیا گیا ہے کہ هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔(الجمعۃ:۳،۴)یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے اُمّیوں میں اپنا رسول بھیجا جو اُن پر آیات الٰہیہ کی تلاوت کرتا ان کا تزکیہ نفس کرتا اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔اور وہ خدا ہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور پھرآپ کے ذریعہ ایک ایسی جماعت پیدا کرے گاجو صحابہ ؓکے رنگ میں کتاب جاننے والی پاکیزہ نفس اورعلم وحکمت سے واقف ہو گی۔گویا وہی کام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نئے سرے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کرنا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کلام الٰہی جو اپنی ضرورت کو پورا کر لیتا ہے مٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا قانون نازل کیا جاتا ہے تو کیا قرآن کریم بھی کسی وقت منسوخ ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم کی نسبت اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰)یعنی یقیناًہم نے ہی اس کتاب کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اور جس تعلیم کی حفاظت کی جائے اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی تمام تعلیموں سے افضل رہے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا کہ اگر کوئی کلام منسوخ ہو تب اس سے بہتر لایا