تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 371
پس اس آیت میں بتایا گیا کہ کلام الٰہی بھی ایک عرصہ کے بعد یا تو قابل عمل نہیں رہتا یا لوگ اس پر عمل ترک کر دیتے ہیں۔قابل عمل نہ رہنا دو ۲ طرح ہوتا ہے۔(۱)لوگ اس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں (۲)یا زمانہ کے مطابق تعلیم نہیں رہتی۔ان دونوں حالتوں کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی بھی دو ۲ سنتیں جاری ہیں۔جب کلام نا قابل عمل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے منسوخ کر دیتا ہے اور اس سے بہتر تعلیم بھیج دیتا ہے کیونکہ زمانہ ترقی کی طرف جا رہا ہوتا ہے لیکن جب لوگ عمل ترک کر دیں اور تعلیم محفوظ ہو تو اللہ تعالیٰ اِسی کلام کو دہرا دیتا ہے اور اُس کا مثل نازل کر دیتا ہے یعنی اُسی تعلیم میں ایک نئی زندگی ڈال دیتا ہے اِس آیت کے آخر میں یہ جو فرمایا کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اِس بات پرقادر نہیں۔اِن الفاظ سے وہ معنے جو عام طور پر اس آیت کے کئے جاتے ہیںیعنی کہا جاتا ہے کہ اِس آیت میں قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے ردّ ہو جاتے ہیں۔کیونکہ قرآنی آیات کے منسوخ ہونے سے قدرت الٰہی کے اظہار کا کوئی تعلق نہیں۔قدرت کا مفہوم انہی معنوں میںپایا جاتا ہے جو میں نے کئے ہیں۔پھریہ جو فرمایا کہ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ ہر کلام جب آئے یا اُسے دوبارہ زندہ کیاجائے وہ ایک انقلاب چاہتا ہے اور یہی امر لوگوں کے خیال میں نا ممکن ہوتاہے۔مگر اللہ تعالیٰ ایسے انقلاب پر قادر ہے۔خواہ نئے کلام کے ذریعہ سے وہ انقلاب پیدا کر دے خواہ پُرانے کلام ہی کو زندہ کر کے انقلاب پیدا کر دے۔یہ معنے جو میں نے کیے ہیں گو جدید ہیں۔لیکن آیت کے تمام ٹکڑوں کا حل انہی معنوں کے ساتھ ہوتا ہے۔پہلے مفسر اس کے معنے یہ کیا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں بعض آیتیں اللہ تعالیٰ نازل کرتا اور پھر انہیں منسوخ کر دیتا ہے۔مخالف اِن معنوں پر تمسخر کیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ وہ آیت نازل کر کے اُسے منسوخ کیوں کرتا ہے۔کیا اُسے حکم نازل کرتے وقت یہ علم نہیـں ہوتا کہ یہ حکم لوگوں کے مناسب حال نہیں۔دوسرے نسخ سے تو اس کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔اس کے بعد اس فقرہ کے کیا معنے کہ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ۔مگر جو معنے میں نے کئے ہیں اُن میں ایک زبردست قدرت کا اظہار ہے۔یہ آسان کام نہیں کہ ایک ایسے قانون کو جو لوگوں کے دلوں پر نقش فی الحجر کی طرح جما ہوا ہوا ور جسے چھوڑنے کیلئے وہ کسی صورت میں بھی تیار نہ ہو ں مٹا کر اس کی جگہ ایک نیا قانون قائم کر دیا جائے۔یا جبکہ ایک قوم مرگئی ہو اور اپنے قانون کو پسِ پشت ڈال چکی ہو اور اس کی خوبیوں سے غافل ہو گئی ہو پھر اس مردہ قوم میں سے ایک حصہ کو زندہ کر کے اس بھلائی ہوئی تعلیم کی حکومت دُنیا میں قائم کر دی جائے۔یقیناً یہ نہایت ہی مشکل کام ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت پر دلالت کرتا ہے اور اس قدرت کے مزید اظہار کیلئے ہی آیت کے آخر