تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 33

لئے انہوں نے اُن پر خراج کے لئے محصّل بٹھلائے تاکہ انہیں اپنے سخت کاموں کے بوجھوں سے ستا ویں…اور مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی۔اور انہوں سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب قسم کی خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی۔ان کی ساری خدمتیں جو وہ کراتے تھے مشقّت کی تھیں۔‘‘ (خروج باب ۱ آیت ۸ تا ۱۴) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ کے معنے لڑکوں کو ہلاک کرنے کے يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ رعمسیس ثانی جس کے زمانہ میں حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا اور بنی اسرائیل کی ترقی دیکھ کر اس نے ان کے لڑکے قتل کرنے کا حکم دےدیا تھا۔مگر دائیوں کی نرم دلی کی وجہ سے اِس ارادہ میں وہ پوری طرح کامیاب نہ ہوا اور آخر اس نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے لڑکے دریا میں پھینک دئے جایا کریں۔اور لڑکیاںبچا لی جائیں۔‘‘(خروج باب۱ آیت ۲۲) طالمود میں بھی اسی مضمون کی روایات ہیں۔اسی طرح اعمال باب ۷ آیت ۱۹ میں لکھا ہے:۔’’ یہاںتک کہ اس نے (فرعون نے ) ان کے لڑکوں کو پھینکوا دیا تاکہ وے جیتے نہ رہیں۔‘‘ بعض لوگوں نے اِس آیت میں ذبح کے لفظ سے دھوکا کھایا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک بنی اسرائیل کے بچوں کا گلا کاٹ دیا جاتا تھا۔حالانکہ تاریخ کی شہادت اس کے خلاف ہے۔اِن لوگوں کے دھوکا کھانے کی یہ وجہ ہے کہ ذبح کا لفظ گلاکاٹ دینے کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔لیکن اس کے معنے ہلاک کر دینے کے بھی ہیں۔جن کے نظر انداز کر دینے کی وجہ سے اِن معترضوں کو دھوکا لگا ہے۔چنانچہ تاج العروس جلد ۲ صفحہ ۱۳۸ پر لکھا ہے۔وَالذَّ بْـحُ: اَلْھَـلَاکُ یعنی ذبح کے ایک معنی ہلاکت کے بھی ہیں۔پس یُذَ بِّـحُوْنَ اَبْنَـآئَـکُمْ کے یہ معنے نہیں کہ وہ تمہارے لڑکوں کا گلا کاٹ دیتے تھے بلکہ یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارے لڑکوں کو ہلاک کرتے تھے۔چنانچہ سورۂ اعراف آیت ۱۴۲ میں یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَـآئَـکُمْ کی بجائے یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَـآئَـکُمْ کے الفاظ رکھ کر قرآن کریم نے یُذَ بِّـحُوْنَ کے معنے خود ہی کر دیئے ہیں کہ اِس سے مراد گلا کاٹنا ہی نہیں بلکہ مار دینا ہے خواہ کسی طرح سے ہو۔بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ایسے عذاب سے نجات دینے میں تمہارے لئے بڑا انعام تھا۔یہ نجات بہت سے انعامات کا موجب ہوئی۔