تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 32

اُسے زندہ رہنے دیا۔نیز لکھا ہے قَالَ اللِّحْیَانِیُّ اِسْتَحْیَاہُ اِسْتَبْقَاہُ وَلَمْ یَقْتُلْہُ کہ لحیانی کہتے ہیں۔اِسْتَحْیَاہ کے معنے ہیں کہ اُسے زندہ رہنے دیا اور اُسے قتل نہ کیا (لسان) پس یَسْتَحْیُوْنَ نِسَائَکُمْ کے معنے ہوں گے کہ وہ تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور قتل نہ کرتے تھے۔بَـلَاءٌ۔بَلَوْتُ الرَّجُلَ ( بَـلَاءً وَ بَلْوًا) وَابْتَلَیْتُہٗ کے معنے ہیں اِخْتَبَرْتُہٗمیں نے اس کا امتحان لیا اور اِبْتَـلَاہُ اللہُ کے معنے ہیں اِمْتَحَنَہٗ۔اﷲ نے اس کا امتحان لیا اور اس سے اسم اَلْبَلْوٰی۔اَلْبَلْوَۃُ اَلْبَلِیَّۃُ اور اَلْبَلَاءُ آتا ہے یعنی امتحان۔نیز لکھا ہے اَلْبَـلَاءُ یَکُوْنُ فِی الْخَیْرِ وَ الشَّرِّکہ بلاء کے اندر دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔بلائے خیر بھی اور بلائے شر بھی۔چنانچہ کہتے ہیں اِبْتَلَیْتُہٗ بَـلَاءً حَسَنًا وَّ بَـلَاءً سَیِّئًاکہ میں نے اس کا اچھا امتحان لیا اور بُرا امتحان لیا۔پھر لکھا ہے وَ اللہُ تَعَالٰی یَبْلِی الْعَبْدَ بَـلَاءً حَسَنًا وَیَبْلِیْہِ بَـلَاءً سَیِّئًا کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کا امتحان ہر دو طرح سے لیتا ہے بلائِ انعام سے بھی اور بلائِ تکلیف سے بھی۔نیز اَلْبَـلَاءُ کے معنے انعام کے بھی لکھے ہیں (لسان) اَلْبَلَاءُ کے اصل معنے امتحان کے ہوتے ہیں لیکن امتحان چونکہ کبھی انعام کے ذریعہ سے اور کبھی سزا کے ذریعہ سے لیا جاتا ہے اس لئے بَلَاء کے اندر دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔انعام کا امتحان بھی اور تکلیف کا امتحان بھی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّيِّاٰتِ (الاعراف :۱۶۹) عَظِیْمٌ۔عَظِیْمٌ۔عَظُمَ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور عَظُمَ الشَّيْءُ عِظَمًا وَ عَظَامَۃً کے معنے ہیں کَبُرَ کوئی چیزبڑی ہو گئی۔جب کہیں کہ عَظُمَ الْاَمْرُ عَلٰی فُـلَانٍ تو اس کے معنے ہوتے ہیں شَقَّ وَ صَعُبَ یعنی فلاں کام اس پر برداشت کرنا مشکل اور گراں ہو گیا ( اقرب) پس عَظِیْمٌ کے معنے ہوں گے (۱) بڑا (۲) گراں۔مشکل۔تفسیر۔بنی اسرائیل پر خدا تعالیٰ کے متعدد احسانات اور ان کی تفصیل اس آیت سے ان احسانات کی تفصیلات گنوانی شروع کی ہے جو ایک لمبے عرصہ سے بنی اسرائیل پر ہوتے چلے آئے تھے۔چنانچہ پہلا احسان یہ بتایا ہے کہ بنی اسرائیل مصر کے فراعنہ کے ماتحت غلاموں کی طرح زندگی بسر کر رہے تھے تب اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندے موسیٰ کو بھیج کر اس عذاب سے اُن کو نجات دلوائی۔پہلا احسان بنی اسرائیل کو غلامانہ زندگی سے نجات دلوانا بائبل میں بنی اسرئیل کی اس غلامانہ زندگی کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے۔’’ مصر میں ایک نیا بادشاہ جو یوسف کو نہ جانتا تھا پیدا ہوا اور اس نے اپنے لوگوں سے کہا دیکھو کہ بنی اسرائیل کے لوگ ہم سے زیادہ اور قوی تر ہیں۔آؤ ہم ان سے دانشمندانہ معاملہ کریں تا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہوں اور جنگ پڑے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل جاویں اور ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جاویں۔اِس