تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 362
ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔(المجادلۃ :۱۴) یعنی کیا تم مشورہ کرنے سے پہلے صدقہ دینے سے ڈر گئے؟ سو چونکہ تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے تم پر فضل فرما دیا ہے۔پس تم نمازیں قائم کرو اور زکوٰتیں دو۔اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔تیسری قسم کا نسخ وہ ہوتا ہے جس میں اُن کے نزدیک آیت کے الفاظ اور معنے دونوں منسوخ ہو جاتے ہیں۔اس کی مثال وہ تحویلِ قبلہ کا حکم بتاتے ہیں کہ پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔لیکن اب اس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا)۔حالانکہ نہ اس کا حکم موجود ہے اور نہ ہی عملاً اب مسلمان اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔غرض یہ تین قسمیں وہ منسوخ آیات کی بتاتے ہیں اور نُنْسِھَا کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ اِس سے مراد یہ ہے کہ وہ حصہ ذہنوں سے اُتر جاتا ہے۔اِس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ دو صحابہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک سورۃ سیکھی۔پھر وہ دونوں ایک رات اسے پڑھنے لگے۔مگر اس کا ایک لفظ بھی ان دونوں کو یاد نہ رہا۔صبح ہوئی تو وہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ یا رسول اللہ وہ سورۃ ہمارے ذہنوں سے اُتر گئی ہے آپ نے فرمایا اِنَّھَا مِمَّا نُسِخَ وَ نُسِیَ یعنی یہ سورۃ بھی منسوخ آیات میں سے تھی جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔اور اسے بُھلا دیا گیا ہے۔اِسی مضمون کی ایک روایت امام قرطبی نے بھی لکھی ہے۔بعض نے نُنْسِھَا کی بجائے نَنْسٰھَا پڑھا ہے۔اُن کے نزدیک اِس کے معنے بُھلانے کے نہیں بلکہ یہ ہیں کہ ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ہم اسے قرآن کریم میں ہی رہنے دیتے ہیں بدلتے نہیں۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) بعض نے اِسے نَنْسٰھَا ہی رکھا ہے۔مگر اِس کے معنے نُنْسِھَا کے لئے ہیں۔یعنی ہم اسے غائب کر دیتے یا ذہنوں سے محو کر دیتے ہیں۔گویا وہ اِس کے معنے بھول جانے کے لیتے ہیں۔مگر ہر شخص معمولی تدبر سے بھی کام لے کر سمجھ سکتا ہے کہ نسخ کا عقیدہ تسلیم کرنے کے بعد قرآن کریم کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتا۔اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ خدا تعالیٰ نے فلاں آیت کا حکم منسوخ کر کے اُسے قرآن کریم سے نکال دیا ہے تو یہ بات کم ازکم قرآن مجید کے متعلق شبہ پیدا کرنے والی نہ ہوتی۔یا جن آیات کو خدا تعالیٰ نے تبدیل کرنا تھا اُن کو قرآن کریم میں درج ہی نہ کیا جاتابلکہ ان کی