تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 363

بجائے جو مستقل حکم دینا تھا صرف اُسے ہی درج کر دیا جاتا تب بھی کوئی بات تھی لیکن اگر اُن کی بجائے کوئی مستقل حکم نہ لانا تھا تو منسوخ شدہ آیات کو قرآن کریم میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ بے شک یہ درست ہے کہ بعض وقتی احکام منسوخ بھی ہوتے ہیں جیسا کہ صُحفِ ابراہیم ؑ کو صحفِ موسیٰ ؑ نے منسوخ کر دیا اور صحفِ موسیٰ ؑ کو قرآن کریم نے منسوخ کر دیا۔پس احکامِ الٰہیہ کا منسوخ ہونا کوئی قابلِ تعجب امر نہیں جو معیوب بات ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی طرف جو ایک دائمی شریعت ہے اس بات کو منسوب کیا جائے کہ قرآن کریم میں بعض آیات کو درج کر کے پھر انہیں نکال دیا گیا تھاپھر اگر ان کو خارج کر دیا جاتا تب بھی اتنی خطرناک بات نہ تھی۔لیکن جب کوئی شخص یہ بات کہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ ہیں اور اُن کے الفاظ قرآن مجید میں موجود ہیں اور وہ اس کے ثبوت میں کوئی وحی الٰہی پیش نہ کر سکے بلکہ صرف اپنا قیاس پیش کرے تو اس سے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور قرآن کریم کا کوئی اعتبار نہیں رہتا۔انسانی دماغ کے کئی مدارج ہوتے ہیں۔بعض باتوں کو ایک دماغ سمجھتا ہے اور دوسرا نہیں سمجھتا۔اگر اس بات کا فیصلہ انسانی دماغ پر رکھا جائے کہ قرآن مجید میں سے کونسی آیت قابِل عمل ہے اور کونسی منسوخ تو ایک رنگ میں سارا قرآن ہی منسوخ ہو جائے گا۔کیونکہ کسی حصّہ کو کوئی نہیں سمجھتا اور کسی کو کوئی۔یہی وجہ ہے کہ پانچ آیات سے لے کر گیارہ سوآیات تک منسوخ قرار دی جاتی ہیں۔گویا جس کی سمجھ میں پانچ آیتیں نہ آئیں اُس نے پانچ منسوخ کر دیں اور جس کی سمجھ میں سو نہ آئیں اُس نے سو منسوخ کر دیں اور جس کی سمجھ میں ہزار نہ آئیں اُس نے ہزار منسوخ کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر بتایا کہ شروع سے لے کر آخر تک سارا قرآن قابِل عمل ہے بِسْمِ اللہِکی باء سے لے کر وَالنَّاسِ کی س تک قرآن کریم قائم اور قیامت تک کے لئے قابلِ عمل ہے۔آپ کے یہ الفاظ مجھے خوب یاد ہیں کہ جب کوئی انسان اس بات کا قائل ہو گا کہ قرآن کریم کے اندر ایسی آیات بھی موجود ہیں جو منسوخ ہیں تو اُسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ قرآن کریم پر غور کرے اور سوچے اور اُس کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔وہ تو کہے گا کہ جب اِس میں ایسی آیات بھی ہیں جو منسوخ ہیں تو میں اِن پر غور کر کے اپنا وقت کیوں ضائع کروں۔ممکن ہے میں جس آیت پر غور کر وں مجھے بعد میں معلوم ہو کہ وہ منسوخ ہے لیکن جو شخص یہ کہے گا کہ یہ کلام تمام کا تمام غیر منسوخ ہے اور اس کا ہر شوشہ تک قابلِ عمل ہے وہ اس کے سمجھنے کی بھی کوشش کرے گا اور اس طرح قرآن اس کی معرفت کی ترقی کا موجب بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں بڑے بڑے علم والے لوگ پیدا کئے ہیں۔مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے سارا علمِ قرآن حاصل کر لیا ہے۔میں بھی کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بے شمار معارف کھولے ہیں نہیں کہہ سکتا کہ قرآن کریم کا سارا علم میں نے حاصل کر لیا ہے۔اگر