تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 361

موجودگی میں اسلام کو سچا مذہب قرار دینا یا اُسے قلبی تسلی اور اطمینان کا موجب سمجھنانا ممکن تھا۔کیونکہ اس زمانہ میں اس آیت کے معنے مسلمانوں میں یہ رائج تھے کہ ہم قرآن کریم کی جو آیت بھی منسوخ کر دیں یا اُسے بھلادیں ہم اُس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت لے آتے ہیں۔اس آیت کے یہ معنے کر کے وہ اِس سے قرآن کریم میںنسخ کا ثبوت نکالا کرتے تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ قرآن کریم کی بعض آیات یقیناً منسوخ ہو گئی تھیں۔اور منسوخ کے وہ یہ معنے لیتے تھے کہ اُن کے احکام کو معطل کر دیا گیا تھا۔اور بعض آیات کے متعلق وہ سمجھتے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے بُھلا دیا تھا۔اِس نسخ کے متعلق مسلمانوں کے مختلف نظریات ہیں۔اُن کے نزدیک نسخ کی ایک قسم یہ ہے کہ آیت کے معنے تو قائم ہوتے ہیں مگر الفاظ محو کر دیئے جاتے ہیں۔گویا ایک آیت معناً تو قرآن کریم میں موجود ہوتی ہے مگر اُس کے الفاظ اس میں نہیں ہوتے۔وہ اس کی مثال یہ بتاتے ہیں کہ قرآن کریم میں پہلے یہ آیت موجود تھی کہ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْ جُمُوْھُمَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔(رُوح المعانی زیر آیت ھذا) یعنی ’’ اگر کوئی بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو اُن دونوں کو سنگسار کر دو۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پر ہے۔اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ مگر پھر اسے نکال دیا گیا لیکن اس کا حکم باقی ہے۔اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔دوسری آیت جو اُن کے خیال میں قرآن کریم سے نکال دی گئی تھی وہ یہ ہے کہ لَوْکَانَ لِابْنِ اٰدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَّالٍ لَا بْتَغٰی وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَہٗ اِلَّا التُّرَابُ (فتح البیان زیر آیت ھذا) یعنی اگر ابن آدم کے پاس مال و دولت سے بھری ہوئی دو ۲ وادیاں بھی ہوں تو وہ چاہتا ہے کہ ایسی ہی اُسے ایک تیسری وادی بھی مل جائے۔اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔دوسری قسم کا نسخ وہ یہ بتاتے ہیں کہ الفاظ آیت تو قائم رکھے جاتے ہیں۔مگر اُس کا حکم منسوخ کر دیا جاتا ہے۔وہ اس کے ثبوت میں آیت لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (البقرۃ :۲۵۷)کو پیش کرتے ہیں۔اس آیت کا حکم اُن کے نزدیک منسوخ ہے مگر الفاظ قائم ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کو آیات جہاد نے منسوخ کر دیا ہے۔اور اب کفار کو ڈنڈے مار مار کر اسلام میں داخل کرنا جائز ہے۔اس کی دوسری مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ(المجادلۃ :۱۳) یعنی اے مومنو! جب تم رسول سے الگ مشورہ کرنا چاہو تو اپنے مشورہ سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔یہ تمہارے لئے اچھا ہو گااور تمہارے دل کو پاک کرنیکا موجب ہو گا اُن کے نزدیک اس آیت کے حکم کو اگلی آیت نے منسوخ کر دیا ہے کہ