تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 357

غرض میرے نزدیک مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے اِس لئے نہیں روکا گیا کہ اُن کی یہودیوں سے مشابہت نہ ہو۔کیونکہ اگر نیّت نہ ہو تو مشابہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ اِس لئے روکا گیا ہے۔کہ رَاعِ مُرَاعَاۃٌ سے ہے۔جس کے معنے یہ ہیںکہ تو میری رعایت کر تو میں تیری رعایت کرو ںگا۔جیسے قَاتَلَ کے معنے ہیں یہ اُس سے لڑا اور وہ اِس سے لڑا۔اور بَاھَلَ کے معنے ہیں۔اُس نے اِس پر لعنت کی اور اِس نے اُس پر۔اِسی طرح اگرچہ رَاعِنَا کے عام استعمال میں یہی معنے لئے جاتے تھے کہ آپ ہماری رعایت کریں مگر لغت میں اس کا یہ مفہوم بھی ہے کہ تم ہماری رعایت کروتب ہم تمہاری رعایت کریں گے اور اس میں گستاخی اور بے ادبی پائی جاتی ہے۔یہودیوں کا منشاء تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ بار بار استعمال کریں تا اُن سے سُن کر مسلمان بھی ان الفاظ کو استعمال کرنے لگ جائیں۔اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب و احترام آہستہ آہستہ اُن کے دلوں سے دور ہو جائے۔اِس بدی کا سدِّ باب کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے سختی سے حکم دے دیا کہ کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق یہ لفظ استعمال نہ کرے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔مسلمانوں میںجو تباہی اور خرابی پیدا ہوئی اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔کہ انہوں نے ادب اور احترام کے الفاظ گندے معنوں میں استعمال کرنے شروع کر دئیے۔ان کی حکومتیں مٹ گئیں۔سلطنتیں بر باد ہو گئیں صرف اس لئے کہ اُن کے نزدیک بادشاہ کے معنے بیوقوف کے ہو گئے۔جہاں بادشاہ بیوقوف کو کہا جائے گا وہاں بادشاہ کا ادب کہاں رہےگا۔اور جب بادشاہ کا ادب مٹ گیا تو حکومت بھی تباہ ہو گئی۔اسی طرح علماء اور بزرگوں کا ادب مسلمانوں کے دلوں سے اس طرح اُٹھا کہ حضرت کا لفظ جو اُن کے متعلق استعمال ہوتا تھا وہی لفظ شریروں اور بدمعاشوں کے متعلق بھی استعمال کرنے لگ گئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء کا ادب مٹ گیا اور اُن کی بے ادبی شروع ہو گئی۔اسی طرح دیکھو۔اللہ تعالیٰ کے لفظ کی بے ادبی سے مسلمانوں پر کس طرح تباہی اور بربادی آئی ہے۔جب کسی کے پاس کچھ نہ رہے تو کہتے ہیں اب تو اللہ ہی اللہ ہے۔یعنی ان کے نزدیک اللہ کے معنے صفر کے ہیں ان کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا اللہ اُن کے مدِّنظر ہے۔یا حضرت ابوبکرؓ والا اللہ ان کے ذہن میں ہے جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر جبکہ وہ اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دینے کے لئے لے آئے تھے پوچھا تھا کہ آپ گھر میں کیا چھوڑ آئے ہیں تو انہوں نے کہا تھا اللہ (ترمذی ابواب المناقب ابوبکر ؓ)۔یہ بالکل اَوررنگ تھا لیکن مسلمان جب یہ کہتے ہیں کہ اب اللہ ہی اللہ ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب کچھ بھی نہیں رہا۔غرض اس رنگ میں اللہ کے لفظ کے استعمال کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں کے دلوں سے خدا تعالیٰ پر ایمان اُٹھ گیا اوراُن میں دہریت آگئی۔پس اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ ادب اور احترام کے الفاظ کبھی گندی اوربری جگہ استعمال نہیں کرنے چاہئیںورنہ قابل احترام چیزوں کا ادب بھی اُٹھ جائے گا۔اور اس کا نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے اور کچھ نہیں ہو گا۔اسی طرح آیت ،معجزہ، کرامت،نبی ،رسول،شہید وغیرہ تما م الفاظ تمہارے نزدیک بڑے معزز و مکرم ہونے چاہئیں۔ورنہ اگر ان الفاظ کا ادب اٹھ گیا تو پھر ان لوگوں کا ادب بھی اُٹھ جائے گا جن کے متعلق یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور اس طرح اباحت اور بے دینی پیدا ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے اَلطَّرِ یْقَۃُ کُلُّھَااَدَبٌ۔یعنی روحانیت کی تمام تر بنیاد ادب پر ہے (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۴۵۵)۔اگر ادب ملحوظ نہ رکھا جائے یا ایسے الفاظ استعمال کر لئے جائیں جو ذومعنین ہوں تو بعض دفعہ اس کا نہایت خطرناک نتیجہ نکلتا ہے۔انشا ء اللہ خان انشاء ایک بہت بڑے شاعر تھے۔اور ہمیشہ اس امر کی کوشش کیا کرتے تھے کہ بادشاہ کی