تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 356

گویا بظاہر تو یہی دکھائی دیتا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ بڑے معزز اور بزرگ ہیں۔آپ ہمیں بھی موقع دیں کہ ہم آپ کی باتیں سُنیں۔مگر وہ کہتے یہ تھے کہ اس شخص کا دماغ خراب ہو گیا ہے یا یہ بڑا متکبر اور خود پسند انسان ہے۔اور اگر انہیں کہا جاتا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو تو وہ فوراً کہہ دیتے کہ ہم نے رَاعِنَا کہا ہے اور آپس میں اشارے کر کے خوش ہوتے کہ دیکھو ہم نے انہیں کیسا بیوقوف بنایا ہے۔مگر میرے نزدیک ایک اور وجہ بھی ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کو رَاعِنَا کہنے سے روکا گیا ہے۔اور وہ وجہ یہ ہے کہ رَاعِ باب مفاعلہ سے امر کا صیغہ ہے اور اس باب میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ تم مقابل میں ایک بات کرو گے تب ہم تمہارے لئے ایسا کریں گے۔پس رَاعِنَا میں یہ مفہوم پایا جاتاہے کہ آپ ہماری رعایت مدنظر رکھیںگے تب ہم بھی آپ کی رعایت ملحوظ رکھیں گے ورنہ نہیں۔مگراُنْظُرْنَا کے صرف یہی معنے ہیں کہ آپ ہماری رعایت رکھیے یا ہماری طرف نظر عنایت کیجئے۔پس رَاعِنَاکے معنے اگرچہ عام محاورہ میں یہی ہیں کہ آپ ہماری رعایت رکھیں۔لیکن اس لفظ کے مادہ میں چونکہ بے ادبی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔اور کسی بڑے آدمی کو جس کا ادب ملحوظ رکھنا چاہیے یہ کہنا کہ ہم آپ کی رعایت اور ادب صرف اُسی صورت میں کریںگے جب آپ بھی ہماری رعایت رکھیں گے ایک سخت بے ادبی کا کلام ہے۔اور یہ ایک قسم کا سودا بن جاتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان اور عظمت کے منافی تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مخالفت فرمائی اور اسی مفہوم کو ایسے لفظ میں ادا کرنے کا حکم دیا جس میں بے ادبی کا کوئی احتمال نہیں۔غرض میرے نزدیک مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے اِس لئے نہیں روکا گیا کہ اُن کی یہودیوں سے مشابہت نہ ہو۔کیونکہ اگر نیّت نہ ہو تو مشابہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ اِس لئے روکا گیا ہے۔کہ رَاعِ مُرَاعَاۃٌ سے ہے۔جس کے معنے یہ ہیںکہ تو میری رعایت کر تو میں تیری رعایت کرو ںگا۔جیسے قَاتَلَ کے معنے ہیں یہ اُس سے لڑا اور وہ اِس سے لڑا۔اور بَاھَلَ کے معنے ہیں۔اُس نے اِس پر لعنت کی اور اِس نے اُس پر۔اِسی طرح اگرچہ رَاعِنَا کے عام استعمال میں یہی معنے لئے جاتے تھے کہ آپ ہماری رعایت کریں مگر لغت میں اس کا یہ مفہوم بھی ہے کہ تم ہماری رعایت کروتب ہم تمہاری رعایت کریں گے اور اس میں گستاخی اور بے ادبی پائی جاتی ہے۔یہودیوں کا منشاء تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ بار بار استعمال کریں تا اُن سے سُن کر مسلمان بھی ان الفاظ کو استعمال کرنے لگ جائیں۔اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب و احترام آہستہ آہستہ اُن کے دلوں سے دور ہو جائے۔اِس بدی کا سدِّ باب کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے سختی سے حکم دے دیا کہ کوئی