تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 345

مومن جن باتوں کو برداشت کر سکتا ہے اُن کو تو برداشت کر لیتا ہے مگر جن کو وہ برداشت نہیں کر سکتا اُن کے متعلق وہ صاف طور پر کہہ دیتا ہے کہ ہم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔تم ہماری جائیدادیں سنبھالو۔ہمارے مال زمینیں اور مکانات لے لو۔ہم یہاں سے جاتے ہیں۔اور اگر حکومت پھر بھی نہ جانے دے تو اس کا مقابلہ کرنا جائز ہوتا ہے۔کیونکہ مومن اس بات کو پیش کر کے کہ ہماری جائدادیں سنبھالو اور ہمیں جانے دو۔اپنی طرف سے امن قائم کر دیتا ہے لیکن اگر حکومت پھر بھی نہ جانے دے تو مومنوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ ظاہر یا مخفی مقابلہ کریں۔کیونکہ اس صورت میں بادشاہ خود امن برباد کرتا ہے اور مقابلہ کی صورت پیدا کرتا ہے۔یہاں بھی یہی حالت تھی اور اس حالت میں بادشاہ کا مقابلہ کرنا جائز تھا۔کیونکہ نہ تو ان کو واپس اپنے وطن جانے کی اجازت تھی اور نہ وہاں کے لوگوں کو اپنے شہر کے آباد کرنے کی اجازت تھی۔آخر اللہ تعالیٰ نے یروشلم کے آباد کرنے کی صورت پیدا کی۔چنانچہ عزرا نبی کی کتاب باب۱ آیت۱ تا ۳ میں آتا ہے کہ ’’شاہِ فارس خورس کی سلطنت کے پہلے برس میں اس خاطر کہ خداوند کا کلام جو یرمیاہ کے مُنہ سے نکلا تھا پورا ہووے۔خداوند نے شاہِ فارس خورس کا دل اُبھارا کہ اُس نے اپنی تمام مملکت میں منادی کروائی اور اُسے قلمبند بھی کر کے یوں فرمایا۔شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی ساری مملکتیں مجھے بخشیں اور مجھے حکم کیا ہے کہ یروشلم کے بیچ جو یہودہ میں ہے اس کے لئے ایک مسکن بنائوں۔پس اس کی ساری قوم میں سے تمہارے درمیان کون کون ہے اس کا خدا اس کے ساتھ ہووے اور وہ یروشلم کو جو شہر یہودہ ہے جاوے اور خداوند اسرائیل کے خدا کا گھر بناوے کہ وہی خدا ہے جو یروشلم میں ہے۔‘‘ یہ وہی خورس ہے جس کی یہود نے مدد کی اور جس نے آکر اعلان کر دیا کہ بنی اسرائیل واپس یروشلم جا سکتے ہیں۔پھر یہ وہی شخص ہے جس کا ذکر سورۂ کہف میں ذوالقرنین کے نام سے آتا ہے۔اُسے خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا تھا کہ تم بنی اسرائیل کو واپس یروشلم جانے دینا۔چنانچہ اُس نے اُن سے دوستی قائم کی اور بابل کی حکومت کوشکست دی۔بابل کی حکومت سینکڑوں سال سے چلی آتی تھی جس کے مقابلہ میں اُس کی حکومت ایک معمولی ریاست تھی۔لیکن خورس کی ترقی دیکھ کر چند حکومتوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اسے کچل دیں۔اُسے کسی طرح اس بات کا علم ہو گیا چنانچہ اُس نے اندرونی طور پر یہودیوں سے سمجھوتہ کر لیا۔اور بابل پر حملہ کر دیا۔اور خدا تعالیٰ کی تائید سے اُسے فتح کر لیا۔اِن واقعات کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہود انہی افعال