تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 343

حضرت سلیمان علیہ السلام پر جو الزام لگایا گیا تھا اس کا حوالہ ۱۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۳،۴،۵،۱۰ ہے جو پہلے گزر چکا پھر آیت ۲۹ تا ۳۳ میں ذکر آتا ہے کہ یربعام جس نے بعد میں بغاوت کر دی تھی اُس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے بیٹے کا مقابلہ کر کے دس۱۰ قوموں کو اپنے قبضہ میں کر لیا تھا اور اُس نے خاص طور پر اُن پر الزام لگایا تھا۔اس میں یربعام اور اس کے ساتھی اخیاہ کے ذریعہ (جسے نبی کہا گیا ہے ) حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے بُت پرستی کی ہے اور کفر کیا ہے اور شرک میں مبتلا ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔یہ الزام لگانے والے خود بت پرست تھے اور بُت پرستی قائم کرنا چاہتے اور اُس میں دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے۔اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا اس کا بھی کوئی ثبوت ملتا ہے یا نہیں ؟ سو اس کا ثبوت کہ انہوں نے بت پرستی کی ۲۔تواریخ باب ۱۳ آیت ۸ سے ملتا ہے کہ یربعام کی حکومت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک شخص ابیاہ کو کھڑا کیا۔یہ یربعام کے مقابلہ کےلئے فوج لے کر گیا اور اُس کو مخاطب کر کے کہا :۔’’اب تم کو یہ گمان ہے کہ تم خداوند کی بادشاہت جو داؤد کی اولاد کے ہاتھ میں ہے اس کا سامنا کر سکو گے۔اور تم بڑے انبوہ ہو۔اور تمہارے ساتھ وے سنہلے بچھڑے ہیں جنہیں یربعام نے بنایا کہ تمہارے معبود ہوویں ‘‘۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ گوسالہ پرستی کر رہے تھے۔اس کا مصر بھاگ جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے۔کیونکہ پہلے بھی مصر ہی سے گوسالہ پرستی کی بیماری آئی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ مصری کمزور لوگوں کو خرید لیا کرتے تھے۔اور اس طرح اپنے معبود کی عظمت کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ حضرت سلیمان علیہ السلام پر بت پرستی کا الزام لگاتے تھے۔حالانکہ وہ خودبت پرست تھے۔اگر یہ الزام نہ لگاتے تو اُن کی قوم جو موحّد تھی نہ بھڑکتی اس لئے انہوں نے آپ پر ایسا الزام لگایا جس سے قوم بھڑک اُٹھی اور جب وہ مشتعل ہو گئی تو انہوں نے بُت بنا بنا کر شرک کو رائج کر دیا جس کا بائیبل سے ثبوت ملتا ہے۔يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ میں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو فریب دہ باتیں بتاتے تھے جن کا ظاہر کچھ اور ہوتا اور باطن کچھ اور۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اُن کے دل میں شرک تھا۔مگر زبان سے توحید کا اظہار کرتے تھے۔کیونکہ اس کے بغیر اُن کی قوم ان کے ساتھ نہ مل سکتی تھی۔پس وہ لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم موحّد ہیں اورسلیمان ؑ مشرک ہے۔ہم دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنا چاہتے ہیں۔منافق بھی ہمیشہ ایسا ہی کیاکرتے ہیں وہ ہمیشہ یہی کہا