تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 342
بادشاہ کی نالائق حرکت اور یہود کی اُن تمام کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروانے کے لئے کی تھیں۔اب ہمیں ایک ایسے واقعہ کا علم ہو گیا جو ان تمام اصولی باتوں کو جو اس آیت سے مستنبط ہوتی ہیں پورا کرتا ہے یعنی وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ والی ایک جماعت ہمیں نظر آگئی جو اس کام کے مشابہ کام کرتی تھی جو شیاطین یعنی بدی کے سرداروں نے ملکِ سلیمان ؑکے خلاف کیا تھا اوراس فعل سے ایک جزئی مشابہت رکھتا تھا جو ملکین یعنی ہاروت وماروت نے بابل میں کیا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں زمانوں میں ایک ہی قسم کا فعل ہوا تھا اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کام اپنے اندر ایک حد تک اخفا کا پہلو رکھتا تھا۔پس ان واقعات کی روشنی میں زیر تفسیر آیات کا ترجمہ کیا جائے تو یہ ہو گا کہ یہ لوگ اس چیز کی پیروی کر رہے ہیں جس کی شیطان صفت لوگ یعنی بدی کے سردار حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے اور وہ یہ تھا کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کرتے تھے کہ وہ کافر ہو گیا ہے۔بے دین اور مشرک ہو گیا ہے۔بتوں کی پرستش کرتا ہے یا ایسی تعلیم دیتا ہے جو دین کے خلاف ہے۔اور وہ یہ باتیں لوگوں میں مخفی طور پر مشہور کیا کرتے تھے۔وہ آپ کے متعلق یہ بھی مشہورکیا کرتے تھے کہ اس پر بیویوں کا قبضہ ہے اور وہ ان کے مجبور کرنے کی وجہ سے معبود انِ باطلہ کی پرستش کرتا ہے۔حالانکہ وہ خد ا تعالیٰ کی طرف سے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔سلیمان ؑنے ہرگز ایسا نہیں کیا بلکہ یہ شیطان یعنی بدیوں کے سردار خدا تعالیٰ کی باتوں کا انکار کرتے تھے۔اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جسے میں نے پہلے بیان نہیں کیا۔اور وہ یہ ہے کہ یہاں دو ۲ دعوے کئے گئے تھے۔اوّل یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسبت دشمنوں کی طرف سے کفر کا الزام لگایا جاتا تھا۔دوسرے یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا بلکہ اس کی حکومت کے باغی لوگ خود کافر اور بے ایمان تھے۔اس کے متعلق چونکہ یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ممکن ہے کافر کہنے والے مخالف دیانت داری سے ان کی طرف یہ الزام منسوب کرتے ہوں یا کسی غلط فہمی کی وجہ سے ان کی مخالفت ہو یا انہوں نے اُن پر الزام تو شرارت سے لگایا ہو مگر ان کی اپنی حالت درست ہو۔اس لئے فرمایا کہ الزام لگانے والے مخالف نہ تو دیانت داری سے الزام لگاتے تھے اور نہ ہی کسی غلط فہمی کی وجہ سے اور نہ ہی یہ صورت تھی کہ وہ صر ف شرارت سے الزام لگاتے ہوں اور ان کی ایمانی حالت درست ہو بلکہ وہ اپنی بد عملی اور بے دینی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔یہ مزید دعویٰ ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔