تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 341
کو اکسائیں اور اس کی مدد سے مدینہ والوں کو تباہ کر دیں۔یہود کی اس سازش کا سر ولیم میور کو بھی اقرار کرنا پڑا ہے۔چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’لائف آف محمد ‘‘ ایڈیشن دوم میں لکھتا ہے کہ کسریٰ شاہِ ایران کے افسر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خط پہنچنے سے پہلے روانہ ہو چکے تھے۔اور پھر وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہودی آپ ؐ کے خلاف ایرانی بادشاہ کو اکسایا کرتے تھے۔عربوں کی تو ایرانی بادشاہ کے دربار میں کوئی رسائی نہ تھی۔عیسائی اس کے دشمن تھے اس لئے وہ بھی اُسے اکسانہ سکتے تھے(لائف آف محمد صفحہ ۳۸۴،۳۸۵)۔باقی صرف یہودی رہ گئے۔اُن کے ذہن میں یہ خیال سمایا ہوا تھا کہ جس طرح فارس کے بادشاہ کی مدد سے بابل والے تباہ ہو گئے تھے اِسی طرح مدینہ بھی ہم فتح کر لیں گے۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ یہودیوں کی طرف سے متواتر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے گئے۔اور آپ کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔آپؐ پر جس قدر خفیہ حملے کئے گئے ہیں وہ سب یہودیوں ہی کی طرف سے ہوئے ہیں۔مثلاً ایک یہودی عورت کی طرف سے آپؐ کو زہر دینا ثابت ہے(سیرۃ النبی لابن ہشام أمر خیبر قصّۃ شاۃ المسومۃ)۔اسی طرح خفیہ طور پر آپؐ پر ایک بڑی بھاری پتھر کی سِل پھینک کر مارنے کی کوشش بھی یہود ہی کی طرف سے ہوئی تھی (سیرۃ النبی لابن ہشام أمر اجلاء بنی النضیر)۔یہ لوگ خفیہ سازشوں میں کوئی عارنہ سمجھتے تھے حالانکہ بہادر اور شریف دشمن ایسی باتوں کو عار سمجھتے ہیں اور سامنے آکر مقابلہ کرتے ہیں۔مگر یہ لوگ ایسے گرے ہوئے تھے کہ انہوں نے خفیہ طور پر آپؐ کو زہر دینے کی کوشش کی۔پھر گھر پر بلا کر مارنے کی کوشش کی اور جب یہ لوگ خود اپنے ارادوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تو انہوں نے ایران کے بادشاہ کو اُکسا کرآپؐ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔اس ساری تحقیق سے ثابت ہے کہ (۱) خفیہ سوسائٹیوں کی ابتداء یہود سے ہوئی۔(۲) یہ لوگ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دشمنوں سے تعلق رکھتے تھے۔(۳) تین دفعہ انہوں نے خفیہ کوششیں کیں۔(i) حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف۔(ii) بابل کے خلاف۔(iii )او ررسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف۔جب اِن تمام واقعات کی کڑی مل گئی تو ثابت ہو گیا کہ اِن آیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دشمنوں اور خورس اور بابل کے واقعات کی طرف اشارہ ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق ایرانی