تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 336
خورس نے ان کو بہت سا سامان اپنے پاس سے دیا جس میں لکڑی وغیرہ بھی تھی۔چنانچہ ہسٹو رینز ہسٹری آف دی ورلڈ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ میں یہ ذکر پایا جاتا ہے کہ یہود نے خورس سے خفیہ معاہد ہ کیا تھا اور اُس کے حملہ آور ہونے پر اندر سے اُس کی مدد کی تھی جس کی وجہ سے وہ بابل پر قابض ہو گیا اور اُس کی مدد سے یہود بابل کی قید سے رہا ہو کر واپس اپنے وطن چلے گئے۔هَارُوْت و مَارُوْت جن کا اس جگہ ذکر آتا ہے یہ دو نبی ہیں جو جلا وطنی کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو واپس لانے پر مقرر ہوئے تھے۔اور جنہوں نے مَیداور فَارس کے بادشاہ کی مدد سے آزادی حاصل کی۔قرآن کریم نے ان دونوں نبیوں کے صفاتی نام لئے ہیں۔یعنی ہاروت اور ماروت۔ھاروت جیسا کہ حلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے ھرت سے نکلا ہے جس کے معنے پھاڑنے کے ہیں۔اور ماروت ، مرت سے نکلا ہے جس کے معنی توڑنے کے ہیں (تاج العروس)پس ھاروت اورماروت کے معنے ہوئے پھاڑنے اور توڑنے والے۔چونکہ اُن نبیوں کے سپرد بعض حکومتوں یا جماعتوں کو پھاڑنے اور اُن کی طاقت کو توڑنے کا کام تھا اس لئے اُن کا یہ صفاتی نام رکھا گیا۔بائیبل پر غور کرنے سے اندازاً کہا جا سکتا ہے کہ یہ حِجّی نبی اور ذکریا ہ بن عِدّو ہیں۔چنانچہ عزرا باب ۵ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہحِـجّی اور ذکریا ہ نبی نے ہی یہود کی آزادی کے لئے کوششیں کیں۔اور خورس سے مخفی سمجھوتہ کیا۔اور اُس سے آرڈر لکھوائے۔پس ہاروت و ماروت حجی اور ذکریاہ نبی ہیں۔جنہوں نے خورس سے سمجھوتہ کیا اور اندر سے زور ڈالا جس کی وجہ سے باہر سے خورس نے حملہ کیا اور بابل فتح ہو گیا۔ان سب واقعات کی طرف اشارہ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِمیں کیا گیا ہے۔اب تیسری بات یہ رہ جاتی ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی یہود نے کبھی ایسی سازشیں کی تھیں یا نہیں ؟اس غرض کےلئے جب تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو یہودنے رسول کریم صلی علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف کعب بن اشرف کو بھڑکایا۔اور اُس نے آپ ؐ کے خلاف تمام عرب میں مخالفت کی ایک خطرناک آگ بھڑکادی اور پھر اُس نے یہیں تک بس نہ کی بلکہ اپنے اشعار میں اُس نے مسلمان خواتین کی عزت و ناموس پر حملے کرنے شروع کر دئیے۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خاندان کی مقدس خواتین کو بھی اُس نے اپنے اوباشانہ حملوں کا نشانہ بنانے سے دریغ نہ کیا (سیرۃ النبی لابن ہشام زیر عنوان مقتل کعب بن اشرف)۔مگر اس تمام مخالفت کے باوجود جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام کی حکومت روز بروز بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کا قدم