تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 335
تھا۔لیکن اُس وقت اُن کے سردار اور لیڈر خدا تعالیٰ کے دو نبی تھے جو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُن کی رہائی کے لئے کوشش کر رہے تھے۔اور اُن کا کام بنی اسرائیل کے دشمنوں کو توڑنا اور پھاڑنا تھا۔یہ جن لوگوں کو اس مقصد کے لئے اپنے ساتھ ملاتے تھےانہیں کہہ دیا کرتے تھے کہ دیکھو ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش اور امتحان ہیں۔ہمارے ذریعہ سے نیکوں اور بدوں میں فرق کیا جائے گا اِس لئے ہماری بات کا انکار نہ کر نا کہ یہ کفر ہے اور وہ اپنے اس ارادہ اور سکیم سے عورتوں کو آگا ہ نہ کرتے تھے اور نہ اُن کو اپنے ساتھ ملاتے تھے یہ ایک قدیم رسم ہے جو اکثر خفیہ سوسائٹیوں میں چلی آتی ہے کہ وہ عورتوں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتیں۔بنی اسرائیل اور اُن کے وہ نبی جن کا نام اِس آیت میں ہاروت وماروت رکھا گیا ہے اپنی اِن خفیہ تدابیر سے صرف ان لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا تھا کہ ان کے خلاف کوشش کرو اور انہیں نقصان پہنچاؤ۔پس اب دوسری بات یہ رہ جاتی ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ بابل میں کیا واقعہ ہوا تھا ؟ بابل کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے چند سو سال بعد بابل کا بادشاہ بخت نصر یہودیوں کو یروشلم سے پکڑ کر اور انہیں قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔یہ بارہ قبیلے تھے جن میں سے دس کو وہ قید کر کے لے گیا اور دو۲ کو چھوڑ گیا(۲۔سلاطین باب ۲۵ آیت ۱ تا ۱۳)۔(یہ دس قبیلے پھیل کر کشمیر وغیرہ کی طرف آگئے ) بنی اسرائیل کے جلاوطن ہونے کی وجہ یہ تھی کہ یرمیاہ نبی نے یہ خبر دی تھی کہ اگر تم سبت کا احترام نہ کرو گے تو تم پر تباہی آجائے گی(یرمیاہ باب ۱۷ آیت ۲۷)۔چنانچہ اس کی وجہ سے وہ قید ہو کر بابل میںچلے گئے۔بابل میں ان کو رہتے ہوئے عرصہ گزر گیا مگر اُن کو نجات نہ ملی۔آخر انبیاءِ بنی اسرائیل کے ذریعہ یہ پیشگوئیاں ہوئیں کہ وہ واپس اپنے مرکز میں لے جائے جائیں گے۔چنانچہ ان پیشگوئیوں کے مطابق ستر سال کے بعد مَیداورفَارس کاایک بادشاہ بنا جسے خورس اور انگریزی میں سائرس کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ اُس کی بابل کے بادشاہ کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔چونکہ یہ بادشاہ طاقت پکڑ رہا تھا اس لئے بابل اور دوسری حکومتوں نے اُس پر حملہ کرنا چاہا۔مگر یہ اُن سے زیادہ دانا نکلا۔اُس نے ان کو ایک ایک کر کے مارنا شروع کر دیا۔اور بابل پر بھی حملہ کر دیا۔ھاروت و ماروت جو دو نبی تھے انہوں نے اُس کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ باہر سے حملہ کرے تو یہود اندر سے اُس کی مدد کریں گے۔اور اُس نے ان کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ بابل فتح ہونے پر تمہیں واپس یروشلم جانے کی اجازت ہو گی۔بلکہ میں تمہیں معبد کی تعمیرکےلئے بہت کچھ مدد بھی دوںگا۔چنانچہ اُس نے بابل پر حملہ کیا اور اندر سے یہود نے اُن کی مدد کی اور بابل فتح ہو گیا۔اور انہیں واپس اپنے وطن یروشلم جانے کی اجازت ملی۔اور عزرا نبی کے زمانہ میں یروشلم پھر آباد ہو ا۔اور