تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 332

حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف خفیہ سازشوں اور منصوبوں اور دھوکا دینے والے اشارات میں مخالفانہ کارروائیاں کرنے والے لوگوں کا جو ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے اس کے متعلق ۱۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۳،۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پر بُت پرستی کا الزام لگایا جاتا تھااور کہا جاتاتھا کہ آپ مشرک ہو گئے ہیں اور توحید کو ترک کر دیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے : ’’ اُس کی سات سو جو روئیں بیگمات تھیں اور تین سو حرمیں۔اور اُس کی جورؤں نے اُس کے دل کو پھیرا۔کیونکہ ایسا ہوا کہ جب سلیمان بوڑھا ہوا تو اُس کی جورؤں نے اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا اور اُس کا دل خدا وند اپنے خدا کی طرف کامل نہ تھا جیسا اس کے باپ دادوں کا دل تھا ‘‘۔اسی طرح ۱۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۹،۱۰ میں لکھا ہے :۔’’اور خدا وند سلیمان سے ناراض ہوا کیونکہ اُس کا دل خدا وند اسرائیل کے خدا سے پھر گیا تھاجس نے اُسے دوبار دکھائی دے کر اُس کو اس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اُس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خدا وند نے دیا تھا ‘‘۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی حضرت سلیمان علیہ السلام کو کافر کہتے تھے اور آپ کی نسبت بُت پرستی کا الزام لگایا جاتا تھا اور لوگوں میں اُسے پھیلا یا جاتاتھا۔عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ کے الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُن کو کافر کہنے کا عام رواج تھا۔دوسری بات جس کا وہاں سے پتہ لگتا ہے یہ ہے کہ جو لوگ بظاہر ان کے ماتحت تھے وہی ان کے خلاف فساد کرتے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ بقول بائیبل مشرک ہو گئے تھے اس لئے خدا نے اُن کے تین دشمن کھڑے کر دئیے تھے۔اوّل : ادومی ہُد ہُد دوم : الیدع کا بیٹا رزون د مشق کا بادشاہ۔سوم : یربعام جسے اخیاہ نبی نے سلیمان ؑکی مخالفت پر اُبھارا۔چنانچہ ۱۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۱۴،۲۳و۲۶ میں لکھا ہے :۔’’سو خدا نے ادومی ہُد ہُد کو ابھارا کہ سلیمان کا دشمن ہو۔‘‘