تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 329

کاواضح طو رپر ثبوت ملتا ہے کہ یہود کا فری میسنوں سے تعلق رہا ہے۔اوّل تو انسان اسی مضمون سے سمجھ سکتا ہے کہ اُن کا اس سوسائٹی سے تعلق رہا ہے ورنہ انہیں جواب دینے کی کیا ضرورت تھی۔لیکن اس کے علاوہ خود اس مضمون سے بھی واضح ہے کہ یہود کا اس سوسائٹی سے تعلق رہا ہے۔چنانچہ جیوش انسا ئیکلوپیڈیامیں لکھا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیںکہ فری میسن سوسائٹیوں کے اصولوں میں یہودی نشانات پائے جاتے ہیںاور یہ بات سوسائٹی کا ان سے تعلق ظاہر کرتی ہے۔کیونکہ ان نشانات کا ابتدائی تعلق ان انجینئروں کے ساتھ ثابت ہے جن کا حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ معبد میں دخل تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ اس سوسائٹی کی علامات حضرت سلیمان علیہ السلام کے پہلے تیار کردہ معبد کے انجینئروں کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔چنانچہ یہ سوسائٹی بھی تسلیم کرتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب اپنا پہلا معبد بنایااس وقت سے ہماری سوسائٹی کی ابتدا ہوئی۔بلکہ بعض لوگ اس سے بھی اوپر جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے ہماری ابتدا ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ ہمارے گرینڈ ماسٹر ہیں۔جیوش انسا ئیکلوپیڈیامیں لکھا ہے کہ ان کی روایات میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اُن کا حورام ابیّ سے تعلق ہے جس نے مسجد بنائی تھی اورجس کا ذکر۲۔تواریخ باب۲آیت۱۳و۱۴میں اس طرح آتا ہے۔’’اور اب میں حورام ابیّ ایک ہوشیار شخص کوجو کہ امتیاز کرنا جانتاہے بھیجتا ہوں وہ دان کی بیٹیوںمیں سے ایک عورت کا بیٹا ہے۔پر اس کا باپ صُور کا ایک شخص ہے۔وہ سونے اور روپے ا ورپیتل اور لوہے اور پتھراور لکڑی اور ارغوانی اور آسمانی اور کتانی اور قرمزی اور ہر طرح کی نقاشی کا کام جانتا ہے۔اور ہر ایک منصوبے کو جو اس سے پوچھا جاوے اس کی ایجاد کرنے میں ماہر ہے۔وہ تیرے ہنرمندوں اور میرے مخدوم تیرے باپ داؤد کے ہنر مندوں کے ساتھ سب کا م بناوے گا۔‘‘ فری میسنوںکی روایات کے مطابق مسجد بننے کے بعدتین مزدوروں نے حورام ابیّ کو قتل کر دیاتھا۔اور فری میسنوں کی رسموں میں اس کی موت کو بڑا بھاری بھید قراردیاجاتا ہے۔مصنف کہتا ہے کہ ہم اس کا حل یوں کر سکتے ہیں کہ ابیّ لٹریچر میں جو روایات آتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انجینئروں نے کام پورا کر لیا تو ان کو اس وجہ سے قتل کروا دیا گیاکہ وہ مسجد کو ُبت خانہ نہ بنا دیں اور اس طرح اس کی ہتک نہ ہو۔ان کی روایات میں یہ آتا ہے کہ حورا م حنوک کے پاس آسمان پر بیٹھا ہے۔فری میسنوں کی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ باقی انجینئروں کو بھی قتل کر وادیا گیا تھا مگر حورام آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔مصنف کہتا ہے کہ ہماری