تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 322

اور قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ ملائکہ انسانوں کی طرف اس طرح نہیں بھیجے جاتے کہ وہ انسانوں میں مِل جُل کر رہیں اور انہیں پڑھائیں اور سکھائیں۔بلکہ ہمیشہ انسان رسول ہی لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کئے جاتے رہے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک مقام پر فرماتا ہے۔وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل:۹۵) یعنی لوگوںکو ہدایت کے قبول کرنے سے سوائے اس بات کے اور کسی چیز نے نہیں روکا کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی نبی آنا تھا تو کیا آدمیوں میں سے ہی آتا؟ فرماتا ہے تو انہیں جواب میں کہدے کہ لَوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل:۹۶) اگرزمین میں آدمیوں کی بجائے فرشتے ہوتے جو اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم بے شک کسی فرشتہ ہی کو رسول بنا کر بھیج دیتے۔مگر چونکہ دنیا میں آدمی بستے ہیں اس لئے ہم بھی آدمیوں ہی کو نبی بنا کر بھیجتے ہیں۔غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ ہمیشہ آدمی ہی رسول بن کر آتے ہیں اس لئے اس جگہ بھی انسان ہی مراد ہو سکتے ہیں فرشتے نہیں۔پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ بطور واقعہ کے فرماتا ہے کہ جس قدر رسول دنیا میں گزرے ہیں وہ سب انسان ہی تھے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (الانبیاء : ۸)یعنی اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے وہ سب کے سب انسان تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے اور اگر تم کو اس بات کا علم نہیں تو تم ان قوموں سے جن کے پاس کلام الہٰی ہے پوچھو کہ دنیا میں انسان نبی ہو کر آتے تھے یا فرشتے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بتادیا ہے کہ دنیا میں کبھی بھی آزمائش یا ہدایت کے لئے مَلک رسول نہیں آئے بلکہ ہمیشہ مرد رسول آتے رہے ہیں۔اور فرشتے صرف انبیاء و اولیاء پر کلامِ الہٰی لے کر نازل ہوتے ہیںیا شاذ و نادر کے طو ر پر بعض دوسرے لوگوں کو بھی کشفی طور پر نظر آ جاتے ہیں اور چونکہ اس آیت میں بتایا ہے کہ وہ دونوں مَلک دنیا میں رہتے اور لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اس لئے اس جگہ مَلَکین سے دو فرشتے نہیں بلکہ دو فرشتہ خصلت بزرگ مراد ہیں جو اپنی نیکی او ر تقویٰ کی وجہ سے یَفْعَلُوْنَ مَا یُوْمَرُوْنَ میں شامل تھے۔یعنی انہیں جو بھی حکم دیا جاتا اُس پر وہ چلتے تھے۔اور اُس کی کسی حالت میں بھی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے۔اور چونکہ ملائکہ کی بھی یہی صفت ہے۔اس لئے ان کا نام بھی مَلک رکھا گیا۔پھر اس کی ایک قرأت جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے مَلِکَیْن بھی آئی ہے۔اس سے بھی ان معنوں کی تصدیق ہو جاتی ہے۔معلوم ہوتا ہے جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ھَارُوْت و مَارُوْت دو فرشتے تھے جنہوں نے بابل میں آکر لوگوں کو سحر سکھلایا اور اُن کے ایمان کی آزمائش کی وہ قرآن کریم کے مطالب سے آگاہ نہیں۔ورنہ جب دنیا میں