تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 321
کے معنٰی میں اس کا استعمال قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا (الشّمس:۳) ہم چاند کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ وہ سورج کے پیچھے آتا ہے۔اور معنوی پیروی کی مثال قرآن کریم کی یہ آیت ہے کہ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ (البقرۃ : ۱۲۲) یعنی وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی اسی طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح اس کی پیروی کرنی چاہیے۔گویا وہ اتباع کا حق ادا کردیتے ہیں۔عَلیٰ اور معنوں کے علاوہ فِیْ کے معنیٰ میں بھی مستعمل ہے(مغنی اللبیب )۔جیسا کہ قرآن کریم کی آیت اِنْ کُنتُمْ عَلٰی سَفَرٍ میں عَلٰی بمعنیٰ فِیْ ہی استعمال ہو ا ہے۔مُلْک کے(۱) ایک معنے اَلْعَظْمَۃُ وَالسُّلْطَانُ کے ہیں یعنی غلبہ اور دبدبہ(۲) اس کے دوسرے معنی ہیں اِحْتِوَاءُ الشَّیْ ءِ وَالْقُدْرَۃُ عَلَی الْاِسْتِعْلَا ءِ بِہٖ یعنی کسی چیز پر کسی شخص کا قبضہ کر لینا۔اس پر حاوی ہو جانا اور اس کو اپنے منشا کے مطابق کر لینا (لسان العرب) یہ معنے بھی دبدبہ کا ہی مفہوم رکھتے ہیں(۳) اس کے تیسرے معنے مُلک کے بھی ہیں جو عام مروّج ہیں۔سِحْر اس کے عربی میں کئی معنے ہیں۔اوّل۔کُلُّ مَالَطُفَ مَأْخَذُہٗ وَدَقَّ۔ہر وہ بات جس کا ماخذ نہایت باریک اور دقیق ہو۔اور جس کی اصلیت معلوم نہ ہو سکے سحر کہلاتی ہے۔دوم۔فساد۔سوم۔اِخْرَاجُ الْبَاطِلِ فِیْ صُوْرَۃِ الْحَقِّ۔باطل کو سچائی کی صورت میں پیش کرنا۔چہارم۔خِدَاعٌ یعنی دھوکا۔پنجم۔ملمع سازی۔ششم۔راستہ سے ہٹادینا۔چانچہ سَحَرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں صَرَفَہٗ اُسے ایک طرف کر دیا۔(اقرب الموارد) مَلَکَیْنِ۔مَلَکٌ کے اصل معنے فرشتہ کے ہیں۔لیکن مجازاً مَلَک کا لفظ نیک انسانوں پر بھی بولا جاتا ہے۔اور چونکہ اس کی ایک قراء ت مَلِکَیْنِ بھی آتی ہے(بحرِ محیطزیر آیت ھٰذا) اور قراء ت صحیح معنوں کی مفسر ہوتی ہے اس لئے یہ دوسری قرا ء ت اس کے صحیح معنوں کو حل کر دیتی ہے اور بتا دیتی ہے کہ اس جگہ دو فرشتے مراد نہیں بلکہ دو فرشتہ خصلت بزرگ مراد ہیں جن کو ان کی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے مَلَک قرار دیا گیا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہمَلَک کا لفظ استعارۃً اچھے اور نیک انسان پر بھی بولا جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت آتا ہے کہ اِنْ ھٰذَ ا اِلَّا مَلَکٌ کَرِیْمٌ (یوسف :۳۲) یعنی یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے۔اور مراد یہ ہے کہ بڑا بزرگ اور خوبیوں والا انسان ہے۔مَلَک کے اس استعمال کو مدّنظر رکھ کر مَلَکَیْن کے معنے یہ ہوئے کہ دو نہایت اچھے شریف اور فرشتہ خصلت بزرگ۔اور یہی معنیٰ اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں۔مَلَک سے مراد فرشتہ کی بجائے انسان ہم اس لئے بھی سمجھتے ہیں کہ اس جگہ ان دونوں کا کام یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں سے ملتے تھے اور انہیں اہم باتیں سکھاتے تھے۔