تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 315
بھلا کہو گے اور اپنی اس عادت کو ترک نہیں کرو گے تو پھر خدا بھی تمہارا دشمن ہو جائے گا۔اور تمہاری ناکامی و نامرادی میں کوئی شبہ نہیں رہے گا۔وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا يَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۰۰۱۰۰ اور ہم نے یقیناً تجھ پر کھلے کھلے نشانات نازل کئے ہیں اور نافرمانوں کے سوا ان کا انکار کوئی نہیں کرتا۔تفسیر۔عیسائی لوگ اس سورۃ کی آیت وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِيْنَاۤ اٰيَةٌ (البقرۃ:۱۱۹) سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیوں ہم سے براہ راست اللہ تعالیٰ بات نہیں کرتا؟ یا کیوں ہمارے پاس تُو کوئی نشان نہیں لاتا۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بیّنٰت کا لفظ آجائے جیسا کہ پچھلے رکوع میں ہی آچکا ہے تو وہ اِس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ مسیحؑ نبی نہیں تھا بلکہ نبیوں سے بالا ہستی تھی۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے وہی الفاظ آجائیں تو نہایت خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔بلکہ کفار کے مطالبہ کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں آیات نہیں دکھائی جاتیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کوئی نشان نہیں دکھایا۔حالانکہ اگر کفار کے آیات مانگنے سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کوئی معجزہ نہیں دیا گیا تو پھر یہی اعتراض حضرت مسیح علیہ السلام پر بھی پڑ سکتا ہے۔اور اُن کے متعلق بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔چنانچہ متی باب ۱۲ آیت ۳۸،۳۹ میں لکھا ہے کہ ’’تب بعضے فقیہیوں اور فریسیوں نے جواب میں کہا۔کہ اے اُستاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں۔اُس نے انہیں جواب دیا اور کہا کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان اُنہیں دکھایا نہ جائے گا۔‘‘ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اُس وقت تک جب آپ نے یہود کو یہ جواب دیا تھا کوئی معجزہ نہیں دکھایا تھا۔اور پھر اس جواب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ساری عمر یہود کو کوئی نشان نہیں دکھایا کیونکہ یونس نبی سے مماثلت کا نشان وہ ہے جو اُن کی موت کے وقت ظاہر ہوا۔اور یہود کا سوال یہ تھا کہ ہمیں اب