تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 308
جب عذاب آتے دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ کیسے نبی ہیں جو دنیا کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں یہی الزام جبرائیل پر لگایاگیا تھاجسے اللہ تعالیٰ نے اِس آیت میں دُور کیا ہے۔فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا وہ اس وجہ سے اُس سے عداوت کرتے ہیں کہ اُس نے قرآن مجید کو تیرے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے۔اِس جگہ فَاِنَّہٗ لِاَنَّـہٗ کے معنوں میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ اس وجہ سے جبریل ؑ سے عداوت کرتے ہیں کہ اُس نے یہ کتاب کیوں نازل کی۔حالانکہ یہ ایسی کتاب ہے جو اپنے اندر کئی قسم کی خوبیاں رکھتی ہے اور جن کو دیکھتے ہوئے اس سے دشمنی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔اِس جگہ یہود کے مذکورہ بالا شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے چار جواب دیئے ہیں۔پہلاجواب تو یہ دیا ہے کہ کوئی فرشتہ اپنی طرف سے کلام نازل نہیں کر سکتا بلکہ اس کا نزول اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہوتا ہے۔پس خواہ کوئی فرشتہ کلام نازل کرنے والا ہو۔جبریل ہو یا میکا ئیل جسے وہ اپنا دوست سمجھتے ہیں بہر حال کلام نازل کرنے والا تو خدا ہے اور اس کے کلام پر فرشتہ کی دشمنی کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ کلام لانیوالے کے فرق سے کلام میں فرق نہیں آسکتا۔پس اگر کسی قومی روایت کی وجہ سے جبرائیل سے نفرت بھی ہو تو اس کلام سے نفرت کس طرح جائز ہو سکتی ہے جو وہ لاتا ہے۔وہ کلام تو بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا اور اُس کا قبول کرنا ضروری ہو گا۔باقی رہا یہ کہ جبریل اِسے کیوں لایا میکائیل کیوں نہیں لایا۔سو جبرائیل نے اِسے خود نازل نہیں کیا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے۔اور جب خدا کے حکم سے اُس نے اسے اُتارا ہے تو اِس سے دشمنی کیسی؟ اُس نے تو خدا کے حکم کی تعمیل کی ہے۔اِسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اس کلام کی برتری اور اس کی فضیلت کی ایک یہ بھی دلیل دی ہے کہ یہ تعلیم اِس نبی کے دل پر اتاری گئی ہے جس کی وجہ سے اس تعلیم نے اس کے جذبات کو اس کے تابع کر دیا ہے۔اِس جگہ فلاسفروں کے خیالات اور نبیوں کے کلام میں یہ فرق بتایا گیا ہے کہ نبی پر جو کلام اُترتاہے وہ اُس کے دل پر نازل کیا جاتا ہے۔مگر فلاسفر کے خیالات کا نزول اُس کے دماغ پر ہوتا ہے۔فلاسفر بھی اچھی باتیں کہتا ہے مگر اُس کے جذبات اُس کے افکار کے تابع نہیں ہوتے اور وہ جو کچھ کہتا ہے اُس کے مطابق اُس کا عمل نہیں ہوتا۔لیکن نبی پر جو کلام نازل ہوتا ہے اُس کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے۔انگریزوں میں کئی بڑے بڑے فلاسفر گزرے ہیں جن کی کتابیں اخلاقی باتوں سے بھری ہوئی ہیں۔لیکن اُن کا عمل دیکھ کر انسان کو سخت مایوسی ہوتی ہے۔اِس کی وجہ یہی ہے کہ اُن کے فلسفہ کا نزول دماغ پر ہوتا ہے اور کلامِ الٰہی کا قلب پر جس کی وجہ سے کلامِ الٰہی انسان کی زندگی کو