تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 307

اسی طرح دانیال باب ۹ آیت ۲۱ میں لکھا ہے :۔’’میں دعا میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ وہی شخص جبرائیل جسے میں نے شروع میں رؤیا میں دیکھا تھا حکم کے مطابق تیز پروازی کرتا ہوا آیاا ور شام کی قربانی گزراننے کے وقت کے قریب مجھے چھؤا اور اس نے مجھے سمجھایا اور مجھ سے باتیں کیں ‘‘۔لوقا باب ۱ آیت ۱۹ میں بھی لکھا ہے :۔’’فرشتہ نے جواب میں اس سے کہا۔میں جبرائیل ہوں جو خدا کے حضور کھڑا رہتا ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھ سے کلام کروں اور تجھے ان باتوں کی خوشخبری دوں۔‘‘ اِسی طرح لوقا باب ۱ آیت ۲۶ میں لکھا ہے۔’’چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا۔‘‘ مگر بعد میں یہودی احادیث میں جبرائیل کو عذاب کا فرشتہ قرار دے دیا گیا اور میکا ئیل کو وحی الٰہی لانے والا فرشتہ سمجھا جانے لگا۔دانیال نبی کے وقت تک وہ مانتے تھے کہ جبرائیل کلام الٰہی لانے والا فرشتہ ہے۔اوردنیوی ترقیات کا تعلق میکا ئیل کے ساتھ ہے۔لیکن رفتہ رفتہ وہ میکائیل کو کلام الٰہی لانے والا فرشتہ سمجھنے لگ گئے۔اور جبرائیل جو کلام لاتا تھا وہ چونکہ نہ ماننے والوں کیلئے سزا کا بھی پیغام لاتا تھا اس لئے وہ اُسے نا پسند کرنے لگ گئے۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں یہود کا یہ پختہ خیال ہو گیا کہ جبرائیل گرج اور عذاب کا فرشتہ ہے۔(انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ جبریل) معلوم ہوتا ہے کہ یہود چونکہ مغضوب قوم تھی۔اور جو نبی بھی اُن کی طرف آتا وہ اُنہیں ڈراتا اور کہتا کہ تم تباہ ہو جائو گے۔اس لئے وہ عذابوں کے پَے درپَے آنے کے سبب سے یہ سمجھنے لگ گئے کہ جبرائیل اُن کا دشمن ہے۔کیونکہ وہ جو کلام بھی لاتا ہے اُس میں عذاب ہی عذاب کی خبریں ہوتی ہیں۔پس وہ جبریل سے عداوت رکھنے لگ گئے۔وہ کہتے تھے کہ ہمیں اس کے ماننے کی ضرورت نہیں۔اصل فرشتہ میکائیل ہے جس کی لائی ہوئی وحی ماننے کے قابل ہے۔وہ جبرائیل کو لڑائی اور جھگڑے پیدا کرنیوالا فرشتہ اس لئے کہتے تھے کہ وہ ہمیشہ انبیاء کا انکارکرتے تھے۔اور اس انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اُن پر عذاب نازل کیا کرتا تھا۔اِن عذابوں کو وہ جبرائیل کی طرف منسوب کر دیتے اور سمجھتے تھے کہ وہ عذاب کا فرشتہ ہے۔آج کل بھی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت