تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 306

پیدا ہو گیا ہے اسی طرح اٰئل کے معنے َلوٹنے والے سے بدل کر ’’جس کی طرف لوٹا جائے ‘‘ہو گئے۔اس کی زیادہ تر وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہود خدا تعالیٰ کی تَوَّاب صفت کے قائل نہیں تھے اور وہ اس کے قائل ہو بھی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ جو قوم یہ سمجھتی ہو کہ خدا تعالیٰ پر ہمارا حق ہے وہ ہمیں بہر حال نجات دے گا۔وہ خدا تعالیٰ کو تَوَّابکیسے مان سکتی ہے۔وہ تو اُسے کبھی بھی تَوَّاب نہیں مانے گی۔اُسے تَوَّاب وہی مان سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ اُس پر میرا کوئی حق نہیں۔مگر یہود کا یہ عقیدہ نہ تھا۔وہ خدا تعالیٰ پر اپنا حق جتاتے تھے۔اسی لئے انہوں نے ایلکے معنے کر دئیے ’’وہ ہستی جس کی طرف لوگ لَوٹتے ہیں‘‘۔نہ یہ کہ وہ خدا جو لوگوں کی طرف بار بار رحمت کے ساتھ لوٹتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عبرانی زبان میں تَوَّابکے معنوں میں اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت بیان نہیں ہوئی۔لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس کے اصل معنے لئے جائیں۔یعنی بار بار لوٹنے والے خدا کا بہادر اور اچھا خادم یا ایک مدبّر ہستی کا بہادر اور اچھا خادم۔تفسیر۔قرآن کریم اور بائیبل دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ جبریل خدا تعالیٰ کے مقرب ملائکہ کا سردار ہے اور اس کا کام بندوں تک کلام الٰہی پہنچانا ہے۔مگر یہود اپنے تنزل کے زمانہ میں جبریل کو لڑائی اور عذاب کا فرشتہ سمجھنے لگ گئے تھے۔(انسائیکلوپیڈیا ببلیکا۔زیر لفظ جبریل ) اور اسے اپنا دشمن تصور کرتے تھے۔چنانچہ مسند احمد بن حنبل اور ابن کثیر کی روایت ہے کہ یہود جب مسلمانوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلائل اور براہین سنتے اور کوئی جواب نہ دے سکتے تو کہہ دیتے کہ اچھا ہمیں یہ بتاؤ۔کہ اُن کی طرف وحی کون لاتا ہے ؟ اس کے جواب میں مسلمان کہتے کہ جبریل۔اِس پر یہود پکار اُٹھتے کہ جِبْرِیْلُ ذَاکَ الَّذِیْ یَنْزِلُ بِا لْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَ اْلعَذَابِ عَدُوُّنَا۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا بر حاشیہ فتح البیان) یعنی جبریل تو وہ فرشتہ ہے جو جنگ و جدال اور عذاب لے کر نازل ہوتا ہے اور ہمارا دشمن ہے اس لئے ہم یہ کلام نہیں مان سکتے۔یہود میں یہ خیال زیادہ تر طالمودی روایات اور ٹار گم کی تفسیروں سے پھیلا ہے۔ورنہ بائیبل جبریل کو کلام الٰہی لانے والا فرشتہ ہی قرار دیتی ہے چنانچہ دانیال باب ۸ آیت ۱۶، ۱۷ میں لکھا ہے۔’’اور میں نے اُولائی میں سے آدمی کی آواز سُنی جس نے بلند آواز سے کہا کہ اے جبریل اِس شخص کو اس رؤیا کے معنے سمجھا دے۔چنانچہ وہ جہاں میں کھڑا تھا نزدیک آیا اور اُس کے آنے سے میںڈر گیا اور منہ کے بل گرا۔پر اُس نے مجھ سے کہا۔اے آدم زاد سمجھ لے کہ یہ رؤیا آخری زمانہ کی بابت ہے۔‘‘