تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 27

ہمارا شفیع ہے اور وہ ہمارے گناہوں کا کفاّرہ ہے۔فقط ہمارے گناہوں کا نہیں بلکہ تمام دنیا کے گناہوں کا بھی‘‘۔(یوحنا کا پہلا خط باب۲ آیت۱) کیا کفاّرہ اور شفاعت ایک ہی چیز ہے؟ اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کفارہ اور شفاعت ایک چیز ہیں؟ اگر ایک چیز ہیں تو پھر ان دونوں کو الگ الگ بیان کرنے کے کیا معنے ہیں۔جہاں تک میرا علم جاتا ہے اس بارہ میں مسیحی کتب خاموش ہیں۔مگر کفاّرہ اور شفاعت کے الفاظ کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے دونوں میں فرق معلوم ہوتا ہے۔کفاّرہ سے یہ مراد ہے کہ کسی فعل کے ذریعہ سے کسی دوسرے فعل کے اثر کو مٹا دینا لیکن شفاعت کسی فعل یا بدلہ پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کے معنے سفارش کے ہیں خواہ سفارش کرنے والا گنہگارکے فعل کا کو ئی بدلہ نہ دے وہ جج یا فیصلہ کنندہ سے اپنے تعلق کو جتا کر ایک گنہ گار کے لئے معافی لیتا ہے۔میرے نزدیک مسیحیوں نے اس فرق کو نہ سمجھ کر دونوں مطالب کو خلط کر دیا ہے۔خلاصہ یہ کہ یہودی بھی اور مسیحی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے اور اب بھی ہیں کہ اُن کے بزرگوں کو اﷲ تعالیٰ سے جو قرب حاصل ہے اس کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ یا تو اُن کو عذاب دے گا ہی نہیں ، یا دے گا تو بہت ہی خفیف سا عذاب دے گا۔اور اس خیال نے انہیں گناہوں پر دلیر کر دیا ہےاور اس کی وجہ سے الٰہی صداقتوں پر غور کرنے کی طرف سے اُن کی توجہ ہٹ گئی ہے۔قرآن کریم اُن کی اس غلطی کو اُن پر آشکار کر کے اُن کی سوئی ہوئی فطرت کو جگاتا ہے اور سچائیوں پر غور کرنے کی قابلیت کو پھر زندہ کرتا ہے۔کیا قرآن کریم شفاعت کا منکر ہے؟ اس موقع پر ایک اور غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے جو مسیحی مصنّف اسلام اور بانیء اسلام کے متعلق پھیلاتے رہتے ہیں۔مسیحی مصنّف اس آیت اور ایسی ہی اَور آیات سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام کے نزدیک شفاعت کا مسئلہ مسلّم نہیں ہے اور یہ کہ شفیع ہونے کی مدّعی صرف مسیحؑ کی ذات ہے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم قرآن کریم کے رُو سے شفیع نہیں ہیں (ویری جلد ۲ صفحہ۱۳۰سورۃ بقرۃ زیر آیت ۴۷) اور مسلمان جو اُن کو شفیع کہتے ہیں یہ ان کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔جو بقول اُن کے خلاف قرآن کمزور احادیث پر مبنی ہے۔یہ خیال مسیحیوں کا غلط فہمی پر مبنی ہے۔میں شفاعت کا مضمون تو جو آیات اس کے متعلق ہیں، اُن کے نیچے انشاء اﷲ بیان کروں گا یہاں یہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم شفاعت کا منکر نہیں بلکہ اس قسم کی شفاعت کا منکر ہے جو یہودیوں اور مسیحیوں کے عقیدہ کے مطابق ہے ورنہ وہ شفاعت کا قائل ہے۔چنانچہ اسی سورۃ میں آگے چل کر یہ الفاظ موجود ہیں مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ(البقرہ :۲۵۶) یعنی کون ہے جو اﷲ تعالیٰ کے پاس اس کی