تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 297

اُخروی انعامات مقدّر نہیں۔مگر فرمایا۔وَ لَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ۔وہ اس موت کو کبھی بھی اپنے اوپر وارد نہیں کر سکتے کیونکہ وہ عیاشیوں میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت سے غافل ہیں۔اِن میں اخلاص اور قربانی کی کوئی روح موجود نہیں۔اور جنت کا اُن کےلئے مخصوص ہونا تو الگ رہا۔اُن کو جنت کے ملنے کا بھی یقین نہیں۔بلکہ اُس کے وجودپر بھی انہیں یقین نہیں کیونکہ دنیا کی محبت اُن کی رگ رگ میں سرایت کئے ہوئے ہے اور یہ محبت اُن کے بعث بعد الموت پر عدم ایما ن کا ایک نمایاں ثبوت ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔کہ قرآن کریم میںتو آیا ہے کہ یہود کہتے ہیں۔لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً یعنی ہمیں دوزخ میں صرف چند دن کے لئےڈالا جائے گا۔اور یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جنّت صرف ہمارا ہی حق ہے۔اِن دونوں باتوں میں تو بہت بڑا اختلاف ہے۔پھر بیک وقت دونوں باتیں اُن کی طرف کِس طرح منسوب ہو سکتی ہیں ؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہود کے دو۲ گروہ ہیں۔اور ان دونوں کے الگ الگ عقیدے ہیں۔ایک گروہ کا خیال تھا کہ ہم کچھ دن دوزخ میں رہ کر نکل آئیں گے اور دوسرا کہتا تھا کہ ہم دوزخ میں بالکل نہیں جائیں گے۔پہلے اُس گروہ کا ذکر آچکا ہے جو صر ف گنتی کے چند دنوں کیلئے دوزخ میں ڈالے جانے کا قائل تھا۔اب اللہ تعالیٰ اُس گروہ کا ذکر کرتا ہے جس کا یہ عقیدہ تھا کہ نجات صرف بنی اسرائیل سے مخصوص ہے اور نبوت بھی کسی اور قوم میں نہیں جا سکتی۔اس گروہ کے متعلق یہود کی کتاب ایروبین طالمود میں لکھا ہے کہ گنہگار یہودی دوزخ کے دروازے تک لے جائے جائیں گے تو وہاں تو بہ کر لیں گے۔اور وہاں سے بغیر سزا دئیے کے واپس کر دئیے جائیں گے۔اور پھراُن کو جنت میں لے جایا جائے گا۔(جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ (Gehenna) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود کا وہ گروہ جو کہتا ہے کہ ہمیں سزا نہیں ملے گی۔اور جس کا یہ دعویٰ ہے کہ دوسروں کے لئے ہرگز نجات نہیں وہ اگر اپنے اس عقیدہ میں سچے ہیں تو مسلمانوں سے مباہلہ کر لیںیا اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کے لئےاپنے اوپر موت وارد کر کے اپنی پاکیزگیء ِ نفس اور بلندیٔ کردار کا ثبوت پیش کریں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے قبل تقریباً تمام مذاہب میں یہ تعلیم پائی جاتی تھی کہ نجات صرف اُنہی کا حق ہے۔بلکہ ہندوؤں کا تو یہ عقیدہ تھا کہ جو شودر وید سُن لے اُس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے۔وہ کہتے تھے کہ یہ ہیں تو اللہ تعالیٰ کے بندے۔مگر ان کو کلام الٰہی سننے کا کوئی حق نہیں۔بد ھ قوم میں دوسروں کی نسبت قومی احساس کم تھا اور ان کی تبلیغ عام تھی لیکن تبلیغ عام ہونے کے باوجود وہ نبوت کو عام نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ اُسے محدود قرار دیتے تھے۔اِس لئے اُن کے نظریہ میں بھی وہ وسعت نہیں تھی جو اسلام نے پیش کی ہے۔