تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 298
یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں کا بھی تو وہی عقیدہ ہے جو یہود کا تھا کہ نبوت صرف ہم میں ہی رہے گی اور ہم ہی نجات کے مستحق ہیں۔پھر مسلمانوں کو دوسروں پر کیا فضیلت حاصل ہوئی۔اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان نہ تو ہر نام نہاد مسلمان کے لئے جنّت ضروری قرار دیتے ہیںاور نہ کسی خاص قوم کے آدمیوں کے سوا دوسروں کے لئے نجات کا دروازہ بند قرار دیتے ہیں۔بلکہ وہ سب دنیا کے لئے اس کا دروازہ کھلا تسلیم کرتے ہیں۔پس اسلام پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اُس نے بھی نجات اپنے پیروؤںکے لئے مخصوص کر لی ہے۔اسلام تمام قوموں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے اور دنیا کا ہر فرد اس کے پیغام کا مخاطب ہے۔اگر بنی اسرائیل بھی اس نبی کو مان لیتے تو وہ اپنے اوپر نجات کا دروازہ کھول سکتے تھے۔اِس طرح دوسری اقوام بھی اس نبی کو مان کر نجات پا سکتی ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ ایک بات بطور استحقاق ہوتی ہے۔اور ایک بطور تَلطّف اور رحم کے ہوتی ہے۔جو شخص سچی تعلیم کو ماننے والا ہو۔ا س کاایک حق ہوتا ہے اور گو وہ حق اس کا ذاتی طور پر نہیں ہوتا مگر بہر حال خدا تعالیٰ نے اس کا ایک حق قائم کیا ہوتا ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جو شخص شریعت حقّہ اسلامیہ پر ایمان رکھے اس کےلئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اُسے نجات دے گا۔یہ امر اس کے لئے استحقاق کے طور پر ہے اور اسی وجہ سے سچے مذہب کے تمام پیرو نجات حاصل کرنے کے مستحق ہوتے ہیں۔لیکن دوسرے لوگ بطور تَلطّف اور رحم کے نجات حاصل کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷)کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔اِس رحمت عام میں یہودی ، عیسائی اور ہندو وغیرہ کا کوئی امتیاز نہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ماتحت ہر شخص جنت میں جا سکتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔اسلام پر اعتراض تب ہوتا جب اسلام میں دوسرے لوگ شامل نہ ہو سکتے۔مگر جب اسلام نے ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول رکھے ہیںاور اُن کو دعوت دے دی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اعتراض اُن مذاہب پر پڑتا ہے جنہوں نے نجات کا دروازہ دوسروں کے لئے بند کر دیا ہے اور انہیں اپنے اند ر شامل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔بہر حال اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب نے نجات کو اپنے لئے مخصوص کیا ہوا ہے۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اسے اپنے ساتھ مخصوص نہیں کرتا۔کیونکہ تَلطّف کی نجات صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اس میں غیر مسلم بھی شامل ہو سکتے ہیں۔مگر یہودی تعلیم کی رو سے کوئی غیریہودی نجات حاصل نہیں کر سکتا اور عیسائیوں کے نزدیک کوئی غیرعیسائی نجات نہیں پا سکتا۔لیکن اسلام یہ نہیں کہتا کہ جنت صرف مسلمان کہلانے پر ملتی ہے۔بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمان کہلا کر برُے کام کرتا ہے تو وہ بھی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔اِسی طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی مسلمان نہ ہو اور وہ