تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 295
پر کہا کہ ’’ مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کے آگے پھینک دیویں۔‘‘ (متی باب ۱۵ آیت ۲۶) پھر حواریوں کا بھی یہی طرز عمل رہا۔کہ وہ غیر اقوام میں انجیل کی منادی کرنا ناجائز سمجھتے تھے۔چنانچہ اعمال میں لکھا ہے کہ ’’ وے جو اس جورو جفا سے جو کچھ استفنس کے سبب برپا ہوئی تتر بتر ہو گئے تھے پھرتے پھرتے فینیکے وکپرس اور انطاکیہ میں پہنچے مگر یہودیوں کے سوا کسی کو کلام نہ سُناتے تھے۔‘‘ (اعمال باب ۱۱ آیت ۱۹) اِسی طرح جب حواریوں نے سنا کہ پطرس نے ایک جگہ غیر قوموں میں انجیل کی منادی کی ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے۔’’اور جب پطر س یروشلم میں آیا تو مختون اُس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگے کہ تو نا مختونوں کے پاس گیا اوراُن کے ساتھ کھانا کھایا‘‘۔(اعمال باب ۱۱ آیت۲،۳) غرض مسیحیت کی عام تبلیغ انا جیل کے نقطہ نگاہ سے بالکل ناجائز ہے۔اور جب مسیحیت کا دائرہ بھی ایک خاص طبقہ تک محدود ہے تو لازماً اُن کے نزدیک بھی نجات اُنہی لوگوں کےلئے مخصوص ہے جو حضرت مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔لیکن اسلام بتاتا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے کہ نجات کسی خاص قوم میں محدود ہے۔وہ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذّٰریٰت:۵۷) فرماکر نجات دُنیا کے ہر فرد کا حق قرار دیتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ انسان کی پیدائش ہی اِسی لئے ہوئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عبد بنے اور اُس کی صفات کا انعکاس اپنے آئینۂ قلب میںپیدا کرے۔زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے دو دعوے بیان کئے ہیں۔ایک یہ کہ جنت اُن کا حق ہے اور دوسرا یہ کہ جنت میں اُن کے سوا اور کوئی نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس جگہ یہود کے اس عقیدہ کی تردید کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور دار آخرت صرف تمہارے لئے مخصوص ہے اور تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت صرف تمہارے گھرانے کے لئے ہی مخصوص کر دی ہے اور دوسرے لوگ اس سے محروم ہیں تو پھر آؤ اس جھگڑے کے تصفیہ کیلئے موت کی تمنا کرو۔