تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 291
صرف بیّنٰت سے حضرت مسیح ؑ کی ابنیت یا الوہیت کا استدلال کرنا غلط ہے۔وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۔حقوق کا تلف کرنا دو۲ قسم کا ہوتا ہے۔اوّل خدا تعالیٰ کے حقوق کو تلف کرنا۔دوم بندوں کے حقوق کو تلف کرنا۔اَنْتُمْ ظٰلِمُوْن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق تلف کئے جانے کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ تم مشرک ہو جو میرے حقوق کو تلف کرتے ہو۔ظالم کا لفظ مشرک کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔کیونکہ ظُلم کے لغوی معنے وَضْعُ الشَّیْ ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ کے ہیںیعنی کسی چیز کو اُس کی مناسب جگہ سے ہٹا کر غیر مناسب جگہ رکھنا۔چونکہ مشرک بھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسروں کی طرف منسوب کر دیتا ہے اس لئے اُس پر ظالم کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا اور (اس وقت کو بھی یاد کرو ) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا اور طور کو تمہارے اوپر بلند کیا تھا(یہ کہتے ہوئےکہ)جو مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا١ۗ وَ کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور اس (یعنی اللہ) کی اطاعت کرو۔اس پر(تم میں سے جو لوگ اس اُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا وقت ہمارے مخاطب تھے ) انہوں نے کہا تھا کہ (بہت اچھا) ہم نے سن لیا اور (ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیںکہ) ہم نے يَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۹۴ (اس حکم کے)نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں بچھڑا(یعنی اس کی محبت کا جذبہ) گھر کر گیا۔تو (ان سے )کہہ کہ اگر تم (جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو ) مومن ہو تو وہ کام جس کا تمہیںتمہارا ایمان حکم دیتا ہے بہت برا ہے۔حَلّ لُغَات۔اِسْمَعُوْا۔سَمِعَ لَہٗ کے معنے ہیں اَطَاعَہٗ اُس کی اطاعت کی۔پس اِسْمَعُوْا کے معنے ہیں اطاعت کرو۔اصل میں یہ اِسْمَعُوْا لَنَا ہے۔یعنی جس طرح ہم نے کہا ہے اُس طرح کرو۔مگر صلہ کو مخدوف کر دیا گیا ہے۔اگر اس کے معنے سُننے کے کئے جائیں تو پھر اس لفظ کا استعمال لغو ہو جاتا ہے۔کیونکہ اُن سے پہلے ایک عہدلے لیا گیا تھا اور عہد لے لینے کے بعد اُس کے سُننے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔پس اس کے معنے اطاعت کرنے کے