تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 288
دوسرا نزول اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ تمام پیشگوئیاں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کے متعلق بیان فرمائی تھیں۔پوری نہ ہو جائیں۔اِسی طرح استثنا باب ۳۳ آیت ۲ میں بھی ایک پیشگوئی بیان کی گئی ہے جو یہ ہے۔’’اور اُس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔اور اُس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لیے تھی۔‘‘ اِس میں آنے والے موعود کے متعلق کئی باتیں بیان کی گئی ہیں۔اوّل یہ کہ وہ فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوگا اور فاران کا پہاڑ مکہ کے علاقہ میں ہی ہے۔دوسرے یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئیگا۔اس جگہ دس ہزار قدوسیوں سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار صحابہؓ کاموجود ہونا ہے۔اتنی بڑی تعداد کسی اور نبی کے ساتھ ایک جگہ کبھی جمع نہیں ہوئی۔اور پھر صحابہؓ کے قدوسی ہونے کا ثبوت بھی قرآن کریم سے ملتا ہے۔فرماتا ہے۔رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ(التوبة:۱۰۰) کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ صرف بارہ حواری تھے۔مگر اُن میں سے بھی ایک نے تو تیس روپے لے کر حضرت مسیح ؑ کو گرفتار کرادیا۔اور دوسرے نے آپ پر لعنت ڈالی اور باقی سب گرفتاری کے وقت آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ایسے جاں نثار صحابہؓ بخشے جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں آپ کا ساتھ دیا اور اپنی جانیں قربان کر کے آپ کی حفاظت کی۔تیسری علامت یہ بتائی گئی تھی کہ اُس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ہو گی۔اگر مثیل موسیٰ سے مراد اس جگہ حضرت مسیح علیہ السلام سمجھے جائیں تو یہ پیشگوئی غلط ٹھہرتی ہے کیونکہ مسیح ؑ کے پاس کوئی نئی شریعت نہیں تھی۔اس جگہ قرآنی شریعت کو آتشی شریعت اِس لئے کہا گیا ہے کہ آتش کے دو۲ فائدے ہوتے ہیں۔اوّل جلانا دوسرے ُنور دینا۔گرم پانی یا گرم لوہا دوسری چیز کو جلا توسکتا ہے مگر وہ کسی کو نور نہیں دے سکتا۔مگر آگ جلانے کے علاوہ نور بھی دیتی ہے۔پس آتشی شریعت کہہ کر بتایا گیا ہے کہ وہ ایسی شریعت ہو گی جو دو۲ کام کرے گی۔اُس میں ایک طرف تو نار ہو گی اور دوسری طرف نو ر ہو گا۔وہ ایک طرف تو تمام گندی اور بُری باتوں کو جلا کر راکھ کر دیگی اور دوسری طرف لوگ اُس سے نور حاصل کریںگے۔غرض فاران سے دس ہزار قدوسیوں سمیت ایک الٰہی جلوہ کے ظہور کا وعدہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم