تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 287
آیا۔مگر تم لوگوں نے تکبر کیا۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی کامیابی کا منہ نہیں دکھاتا۔یہ اُسی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔جو حضرت موسیٰ ؑ نے کی تھی۔اس جگہ اس پیشگوئی کو بطور دلیل کے پیش کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مثیل مو سیٰ ؑ ہیں۔اور موسیٰ ؑ تو پیشگوئی کر کے اِس آنے والے نبی پر ایمان لے آیا۔مگر تم نے انکار کر دیا اور تکبر سے کام لیا۔غرض اس آیت میں عَلٰی مِثْلِہٖ کی پیشگوئی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کیا گیا ہے۔مگر حضرت عیسیٰ ؑ نے کہیں اسے اپنے اوپر چسپاں نہیں کیا۔اس سے بڑھ کر ایک اور بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے خود مثیل موسیٰ ؑ ہونے سے انکار کیا ہے اور اُن کا یہ انکار کتاب اعمال باب ۳آیت ۱۹تا ۲۶ میں درج ہے۔لکھا ہے :۔’’پس توبہ کرو اور متوجہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خدا وندکے حضور سے تازگی بخش ایّام آویں۔اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے۔جس کی منادی تم لوگوں میں آگے سے ہوئی۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے لئے رہے اُس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھا وے گا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے اُس کی سب سنو۔اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ سُنے وہ قوم سے نیست کیا جائے گا۔بلکہ سب نبیوں نے سموایل سے لے کے پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے۔تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہو جو خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے جب ابراہام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں گے۔تمہارے پاس خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اُٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم میں سے ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے پھیر کے برکت دے۔‘‘ اِس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس وقت تک نہیں آسکتے جب تک کہ وہ تمام پیشگوئیاں پوری نہ ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کی تھیں۔اور آیت ۲۰ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مثیل موسیٰ ؑمسیح کی پہلی بعثت کے بعد اور دوسری بعثت سے پہلے آئے گا گویا اس جگہ اُن کی دو ۲ بعثتوں کا ذکر ہے۔جن میں سے پہلی بعثت مثیل موسیٰ سے پہلے ہے اور دوسری بعثت مثیل موسیٰ کے بعد ہے۔پس انجیل مثیلِ موسیٰ ؑ کی پیشگوئی حضرت مسیح علیہ السلام کی دو بعثتوں کے درمیان بتاتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا پہلا نزول مثیلِ موسیٰ ؑسے پہلے ہوا۔اور