تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 286
کی مانند ہیں۔حالانکہ یہ بات غلط ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرعی نبی نہ تھے۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام شرعی نبی تھے۔اِس کی دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کا وہ قول ہے جو انجیل میں آتا ہے کہ ’’یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا۔جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے ‘‘۔(متی باب ۵آیت ۱۷، ۱۸) لیکن اگر بفرض محال حضرت مسیح ؑ کو شرعی نبی بھی مان لیا جائے تب بھی وہ موسیٰ ؑ کی مانند نہیں ہو سکتے کیونکہ عیسائی نقطہ نگاہ سے انہوں نے شریعت کو لعنت قرار دے دیا تھا اور خود بھی لعنتی ہو گئے تھے۔پھر اس پیشگوئی میں لکھا ہے کہ وہ نبی تیرے بھائیوں میں سے ہو گا۔مگر انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو داؤد کی نسل سے بتاتی ہے۔اگر اس پیشگوئی کو حضرت مسیح ؑ پر چسپاں کیا جائے تو لازماً اُن کا حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے ہوناغلط قرار پاتا ہے۔حالانکہ مسیحی لوگ نہیں کہہ سکتے کہ انجیل نے جو کچھ بتایا ہے وہ غلط ہے۔اور تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے نہ کہ بنی اسمٰعیل میں سے۔پس تیرے بھائیوں سے لازماً بنی اسرائیل مراد نہیں ہو سکتے۔بلکہ اُن کے بھائی بنی اسمٰعیل ہی مراد ہیں۔پھر اگر اس سے حضرت مسیح علیہ السلام مراد ہوتے تو وہ اپنے آپ کو اس کا مصداق بھی قرار دیتے اور دعویٰ کرتے کہ میں مثیل موسیٰ ؑ ہوں۔مگر انجیل کو دیکھنے سے یہ بات کہیں نظر نہیں آتی کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے کبھی مثیل موسیٰ ؑ ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔لیکن قرآن کریم میں یہ دعویٰ موجود ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا(المزّمل: ۱۶) یعنی اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے بالکل اُسی طرح جس طرح کہ فرعون کی طرف ہم نے رسول بھیجا تھا۔یہ مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ ہے۔اِسی طرح سورۂ احقاف میں بھی مثیل کا لفظ پا یا جاتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔(الاحقاف: ۱۱)یعنی کہہ دے کہ اے لوگو( جو قرآن کریم پر غور کرنا بھی پسند نہیں کرتے ) بتاؤ تو سہی اگر یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہو اور تم نے اس کا انکار بلا سوچے سمجھے کر دیا (تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا )اور پھر بنی اسرائیل میں سے ایک شخص (موسیٰ ؑ )اپنے ایک مثیل کی گواہی بھی دے چکا ہے۔پس وہ تو اُس پر ایمان لے