تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 285

جو ایک جھوٹے نبی میں پائی جاتی تھیں۔نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا سے یہ امر بھی مستنبط ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی شخص پر کوئی ایسا انعام نازل ہو جس سے سار ی قوم کو فائدہ پہنچے تو اُس وقت ایسا ہی سمجھا جاتاہے۔کہ گویا وہ انعام ساری قوم کو ملا ہے۔چنانچہ دیکھ لو تورات یہود پر نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔مگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم پر اُتری۔کیونکہ اس کتاب سے تمام یہود نے بحیثیت قوم فائدہ اٹھایا تھا۔افسوس ہے کہ اِس زمانہ میں مسلمان بھی یہی کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو مان کر مرزا صاحب کی کیا ضرورت ہے ؟گویا وہ بھی نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ کے مصداق بنتے ہیں۔وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ۔فرماتا ہے۔کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہماری یہ تعلیم حق ہے یعنی ایک اٹل صداقت ہے جو دنیا میں نمایا ں ہو کر رہے گی۔عربی زبان میں سچائی کے اظہار کے لئے جتنے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔وہ سب دوام پر دلالت کرتے ہیں۔یعنی ایسی بات پر جو نہ ٹلنے والی ہو اور پوری ہو کر رہنے والی ہو۔پس هُوَ الْحَقُّ میں بتایا کہ یہ دائمی صداقت ہے جو کبھی نہیں ٹلے گی۔اِسکا انکار تم کو کیا فائدہ دے گا۔کیوں نہ تم اسے پہلے ہی مان لو۔اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق جو پیشگوئیاں بائیبل میں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب قرآن کریم کے ذریعہ پوری ہوئی ہیں اور اِسی کے ذریعہ سچّی ثابت ہوتی ہیں۔اِن میں سے بعض پیشگوئیاں عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر ان پیشگوئیوں کی علامات بتا دیتی ہیں کہ ان کا حضرت مسیح ؑ پر چسپاں کرنا غلطی ہے۔اس بارہ میں سب سے پہلی پیشگوئی استثنا باب۱۸آیت ۱۷تا ۱۹ کی ہے۔یہ پیشگوئی اتنی واضح ہے کہ اِسے کسی صورت میں بھی کسی اور پرچسپاں نہیں کیا جا سکتا۔واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو طور کے دامن میں لے گئے تو بائیبل میں لکھا ہے کہ آسمان پر متواتر بجلی چمکنی شروع ہوئی اور اُس سے زور زور کی آوازیں پیدا ہوئیں۔بنی اسرائیل خوفزدہ ہو گئے اور حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ تو خود جا اور خدا سے کلام کر ہم اُس کا کلام سننا نہیں چاہتے اور نہ ہماری اولادیں اُسے سنیں۔تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ اِن کو کہہ دے کہ میں نے ان کی بات سن لی ہے۔اَب میں ان سے وہی معاملہ کرونگا جو وہ چاہتے ہیں۔یعنی آئندہ میں اِن میں سے شرعی نبی برپا نہیں کرونگا۔بلکہ ان کے بھائیوں سے برپا کرونگا۔یہ پیشگوئی حضرت مسیح ؑ پر کسی صورت میں بھی چسپاں نہیں ہو سکتی۔اگر اسے اُن پر چسپاں کیا جائے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام