تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 284
وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اور جب ان سے کہا جائے کہ جو کچھ اللہ( تعالیٰ) نے اتارا ہے اس پر ایمان لاؤتو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا ایمان لاتے ہیں جو ہم پر اتارا گیا ہےاور (یہ کہتے ہوئے )اس کے بعد آنے والے (کلام) کا وہ انکار کر دیتے ہیں لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ حالانکہوہ اس (کلام ) کو جو ان کے پاس ہے سچّا کر کے کامل طور پر سچّا (ثابت ہو چکا) ہے تو (ان سے )کہہ کہ اگر تم كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۹۲ (واقعی) مومن ہو تو پھر تم کیوں اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کے قتل کے در پے رہے ہو۔تفسیر۔یہود کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اس بات پر غصہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سوا دوسروں میں اپنا نبی کیوں بھیج دیا۔چنانچہ جب اُن سے کہا جاتا کہ قرآن مجید میں جو کچھ اُترا ہے اُس پر ایمان لاؤتو وہ کہتے کہ ہم تو اُسی پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہو ا ہے۔حالانکہ وہ اس بات میں بھی جھوٹے تھے۔اگر وہ موسیٰ ؑ کی کتاب پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا کہنے میں راستی پر تھے تو اُن پیشگوئیوں کا وہ کیوں انکار کرتے تھے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق اُن کی کتاب میں پائی جاتی تھیں۔اُن کا اپنی کتاب کی پیشگوئیوں کو جھٹلا دینا بتاتا ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے تھے کہ ہم صرف اپنی کتاب پر ایمان رکھیں گے۔ورنہ اگر اُن میں دیانتداری پائی جاتی تو وہ سمجھتے کہ اگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان نہیں لائیں گے تو خود اُن کے مذہب پر حملہ ہو گا کیونکہ اُن کی اپنی کتاب میں ایک آنے والے رسول اور ایک جدید کتاب کا ذکر ہے۔اور وہ نشانیاں جو اس رسول اور اِس کتاب کی بتائی گئی ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن کریم پر حرف بحرف منطبق ہوتی ہیں۔پس اُن کا اِنکار درحقیقت اپنی کُتب کی صداقت سے بھی انکار کرنا ہے۔کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ علامات باطل تھیں اور جھوٹے آدمی میں بھی پائی جا سکتی تھیں۔یا یہ کہ نعوذباللہ اللہ تعالیٰ کے سوا شیطان بھی غیب کی باتیں بتا سکتا ہے۔او ر اُس نے پہلے انبیاء کو آنے والے رسول کی نسبت بعض ایسی علامات بتادیں