تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 276

باتوں کو کہاں سمجھ سکتے ہیں۔اس سے بعض لوگوں کی تو یہ مراد ہوتی کہ ہم کسی بحث میں نہیںپڑنا چاہتے۔تم ہمارے علماء کو سُنائو اور سمجھائو ہمارے ساتھ کوئی گفتگو نہ کرو۔اور بعض لوگ طنز کے طو پر کہتے کہ آپ لوگ تو بڑے عالم ہیں۔ہم جاہل لوگ ہیں یہ باتیں ہمیں کہاں سمجھ آسکتی ہیں۔جس کا دوسرے الفاظ میں یہ مطلب ہوتا کہ ہم لوگ جو سمجھدار ہیں جب ہماری سمجھ میں بھی یہ باتیں نہیں آتیں تو تم کیونکر سمجھ گئے۔یا یہ کہ تمہارے نزدیک ہمارے دل غلاف میں ہیں یعنی سزا کے طور پر اُن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔پھر ایسی صورت میں تم کیوں سمجھانے آتے ہو۔اگر غُلْفٌ کے معنے علم کے خزانہ کے لئے جائیں۔تو یہودیوں کا ان الفاظ سے یہ مطلب ہوتا کہ ہمارے دل تو علم کے خزانے ہیں ہمیں کسی مزید صداقت کی کیا ضرورت ہے۔قُلُوْبُنَا غُلْفٌ کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ہمارے دل ناپاک ہیں۔یعنی جب انہیں کوئی جواب نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم گندے لوگ ہیں ہمیں چھوڑو اور کسی اَور سے گفتگو کرو گویا مسلمانوں سے وہ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے ایسا کہتے ہیں حالانکہ ہدایت تو آتی ہی ایسے لوگوں کے لئے ہے جو گندے ہوں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ قُلُوْ بُنَا غُلْفٌ بطور تنفّرکے کہتے ہوں۔یعنی جب تم ہمیں گندہ اور ناپاک سمجھتے ہو تو ہمیں نصیحت کیوں کرتے ہو۔بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ فرماتا ہے یہود کا اِن الفاظ سے خواہ کچھ بھی مطلب ہو۔خواہ وہ بات کو ختم کرنے کے لئے ایسا کہیں خواہ طنزاً ایسا کہیں خواہ اپنی علمیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لئے ایسا کہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت پڑ گئی ہے اور اسی لعنت کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ قبول حق سے محروم ہو گئے ہیں۔بِكُفْرِهِمْ میں بتایا کہ یہ لعنت اُن پر اس لئے پڑی ہے کہ انہوں نے متواتر اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا انکار کیا اور اُن کی مخالفت کی۔پس نہ تو یہ ایسے نا سمجھ ہیں کہ بات کو سمجھ ہی نہ سکیں اور نہ ہی اعلیٰ درجہ کے سمجھدار وجود ہیں کہ کسی کی تبلیغ کے محتاج ہی نہ ہوں۔اصل وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر لعنت ڈال دی ہے۔اس وجہ سے باوجود اس کے کہ اسلام کی تعلیم دوسری تمام تعلیموں سے افضل ہے اور فطرت انسانی اس کو قبول کرتی ہے اور عقلِ سلیم اس سے مطمئن ہوتی ہے پھر بھی وہ اس کا انکار کر رہے ہیں۔لَعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْکے الفاظ اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کسی پر بلاوجہ نہیں پڑتی بلکہ اس کا اصل باعث کفر ہوتاہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بے حد رحم و کرم سے کام لینے والا ہے انہیں اپنی محبت سے محروم نہیں کرتا۔وہ اسی وقت اپنے قرب کے دروازے ان پر بند کرتا ہے جب وہ خود اس کی رحمت کے دروازوں کو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں۔