تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 275

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا اور( ہمیں معلوم ہے کہ) انہوں نے (یہ بھی) کہا ہے( کہ) ہمارے دل تو پردوں میں ہیں۔(مگر یہ بات ) نہیں مَّا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۸۹ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کی ہے۔پس وہ بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں۔حَلّ لُغَات۔غُلْفٌ۔اَغْلَفُ کی جمع ہے۔اور غِلَافٌ کی بھی۔اس کے معنے نامختون کے ہیں۔لیکن اِس کے علاوہ عربی زبان میں دو۲ عام محاورے بھی ہیں۔کہتے ہیں(۱) قَلْبٌ اَغْلَفُ یعنی ایسا دل جو اپنے اندر سمجھ نہ رکھتا ہو۔اور (۲) سَیْفٌ اَغْلَفُ یعنی تلوار ایسے غلاف میں ہے کہ جس میں باہر سے کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی۔(اقرب) تفسیر۔جب کسی صداقت کا مقابلہ دلائل کے ساتھ کوئی انسان نہ کر سکے اور اسے قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو وہ اِدھر اُدھر کی باتیں بنا کر اُسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔اِس آیت میں یہود کا ایک ایسا ہی عذر بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ اسلام سے اپنا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے تھے۔اور اس زمانہ میں بھی ضِدی لوگ اسی قسم کے عذرات کر کے اپنے آپ کو اس صداقت سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا میں بھیجی گئی ہے۔جیسا کہ حلِّ لغات میں بتایا جا چکا ہے۔غُلْفٌ اَغْلَفُ کی بھی جمع ہے جس کے معنے نا سمجھ کے ہیں اور غِلَافٌ کی بھی جمع ہے۔اگر غُلْفٌ کو غِلَافٌ کی جمع سمجھا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو گا۔کہ ہمارے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک قیمتی چیز کی طرح پردہ میں رکھا ہوا ہے۔تمہاری باتیں ہمارے دلوں پر اثر نہیں کر سکتیں۔غلاف چونکہ اعلیٰ درجہ کی چیزوں پر چڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ میلی نہ ہوں اس لئے قُلُوْبُنَا غُلْفٌکا فقرہ کہہ کر اُن کا منشاء یہ ہوتا کہ تم ہمیں کیا سمجھاتے ہو ہمارے دل تو خود بڑے پاک اور ہر قسم کی آلا ئشوں سے مبرّا ہیں۔اِس لئے تمہاری باتوں کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں تمہارے اثرات سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔اور اگراس کے معنے نا سمجھ کے لئے جائیں۔تو قُلُوْبُنَا غُلْفٌکا یہ مفہوم ہو گا کہ مسلمان جب اُن کے سامنے دلائل پیش کرتے تو وہ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کہہ دیتے کہ یہ باتیں تو بڑی اچھی ہیں مگر ہم ناسمجھ اور جاہل ہیں بھلا ہم ان