تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 274
کہ وہ مخلوق تھے نہ کہ خالق۔اور مخلوق الٰہ نہیں ہوسکتی۔اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ وہ دوسرے کی مدد کے محتاج تھے۔اور جو دوسرے کی مدد کا محتاج ہو وہ خدا کس طرح ہو سکتا ہے۔طاقت اور قوت تو اسی کو بخشی جاتی ہے جو کمزور اور ضعیف ہو۔پس اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کے الفاظ بھی حضرت مسیحؑ کی کمزوری کو ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ روح القدس کی تائید کی ضرورت تبھی تسلیم کی جا سکتی ہے جبکہ پہلے ان کی کمزوری مانی جائے۔اور جو ہستی کمزور اور ضعیف ہو وہ خدا یا خدا کا بیٹا نہیں کہلا سکتی۔پس یہ فقرہ خود ان کی ذات میں اُن کی خدائی کی تردید کر رہا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ انہیں پاکیزگی کی قوت خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی تھی۔اگر خدا تعالیٰ ان کو پاکیزگی عطا نہ کرتا تو وہ صرف گوشت پوست کا ایک لوتھڑا ہوتے۔پس یہ فقرات حضرت مسیح کی الوہیت کا ثبوت نہیں۔بلکہ اُن کی الوہیت کا عقیدہ رکھنے والوں پر ایک کاری ضرب ہیں۔اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ الخ۔اِس میں بتایا کہ نبی تو اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ صحیح راستہ کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔اور اس وجہ سے لازماً اس کی تعلیم لوگوں کے خیالات کے خلاف ہوتی ہے۔لیکن یہود نے اپنی یہ عادت بنا رکھی ہے کہ جو بات اپنی رائے کے مخالف ہو اسے قبول نہیں کرنا۔اس لئے ہر رسول کے آنے پر انہوں نے تکبّر سے کام لیا۔اور اگر ایک حصہ کو صرف زبان سے جھٹلا دیا تو دوسرے حصہ کو قتل کرنے تک کے منصوبے کئے۔اللہ تعالیٰ یہود کی اس شقاوت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب تم نے انکار ہی کرنا ہے تو پھر تمہارا یہ کہنا کہ اگر بنی اسحاق میں سے نبی ہوتا توہم اُسے مان لیتے کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔یہ تو تمہارا صریح جھوٹ ہے۔فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ١ٞ وَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ کے یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ تم نے بعض کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کر دیا۔جیسے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا گیا۔مگر كَذَّبْتُمْ اورتَقْتُلُوْنَ کے صیغوں میں چونکہ فرق کر دیا گیا ہے اس لئے فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہود کا ارادۂ قتل بھی ہو سکتا ہے۔یعنی پچھلوں کو تم نے جھٹلایا اور اس نبی کو تم قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔یا اس سے لڑائی کرتے ہو۔اس صورت میں اس کے معنے قتل کے نہیں بلکہ لڑائی کے ہوں گے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا گند کم نہیں ہوا بلکہ اور بھی بڑھ گیا ہے اور جہاں تک تمہارا بس چلا ہے تم نے خدا تعالیٰ کے نبیوں کی مخالفت کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔