تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 271
لئے بھی کیا گیا ہے کہ یہودی حضرت مسیح ؑ پر یہی دو۲ اعتراض کیا کرتے تھے۔کہ اوّل اُس نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔دومؔ وہ نعوذ باللہ ناپاک تھا اور اُس پر شیطانی رُوح آتی تھی۔چنانچہ معجزہ نہ دکھانے کے اعتراض کا ذکرمتی باب ۱۲ آیت۳۸ تا ۴۰ میں اس طرح آتا ہے کہ ’’تب بعضے فقیہیوں اور فریسیوں نے جواب میں کہا۔کہ اے اُستاد! ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں۔اُس نے انہیں جواب دیا اور کہا کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں۔پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا۔کیونکہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔‘‘ اور شیطانی رُوح کے متعلق یہود کے الزام کا ذکر لوقا باب۱۱ آیت۱۴‘۱۵ میں آتا ہے۔لکھا ہے۔’’پھر وہ ایک گونگی رُوح کو نکال رہا تھا۔اور جب وہ بد رُوح نکل گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا اور لوگوں نے تعجب کیا۔لیکن ان میں سے بعض نے کہا۔یہ تو بدرُوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہے۔‘‘ بلکہ لوگوں نے حضرت مسیح ؑ کا نام ہی بعلزبول رکھ دیا تھا۔چنانچہ وہ اپنے شاگردوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’جب اپنوں نے گھر کے مالک کو بعلزبول کہا تو اس کے گھرانے کے لوگوں کو کیوں نہ کہیں گے۔‘‘ (متی باب۱۰آیت۲۵) پس اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِمیںیہود کے پہلے اعتراض کا رد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے ہاتھ پر ہم نے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے تھے۔گو افسوس ہے کہ انجیل آپ کے وہ معجزات پیش نہیں کرتی جو یہود کے مقابلہ میں حضرت مسیح ؑ کی صداقت کی دلیل ہو سکتے۔آپ کا صرف ایک ہی معجزہ تھا اُسے بھی عیسائیوں نے اپنی نادانی سے مشتبہ کر ڈالا۔وہ معجزہ وہی تھا جس کا حضرت مسیح ؑ نے خود ذکر کیا تھا۔اور کہا تھا کہ انہیں یونس نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہیں دکھایا جائے گا۔حضرت یونس ؑ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے اور زندہ ہی نکلے۔مگر عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر ہی مر گئے تھے اور مر کر ہی قبر میں گئے تھے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے۔اِس معجزہ کے دو۲ حصے تھے۔ایک حصہ بندوں کے ساتھ تعلق رکھتا تھا اسے خود عیسائیوں نے مشتبہ کر دیا۔دوسرا حصہ کہ وہ زندہ ہو گئے اُسے یہود مانتے ہی نہ تھے۔گویا ایک ہی معجزہ جو حضرت مسیح ؑنے