تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 270

’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا۔جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے‘‘ (متی باب۵ آیت۱۷،۱۸) پس یہ تو غلط ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا علیحدہ ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آپ صاحبِ شریعت جدیدہ تھے۔لیکن یہ سوال ضرور قائم رہتا ہے کہ اگر بینات دیئے جانے اور روح القدس سے مؤید ہونے میں اُن کی کوئی خصوصیت نہیں تھی تو پھر ان کا علیحدہ ذکر کیوں کیا گیا۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ بنی اسرائیل میں جس قدر انبیاء حضرت مسیح ؑ سے پہلے گزر چکے ہیں اُن کی عظمت کے بنی اسرائیل کسی نہ کسی رنگ میں ضرور قائل تھے۔اور گوابتدا میں اُن کی مخالفت بھی ہوئی لیکن بعد میں اُن کی صداقت کو یہودیوں نے قبول کرلیا تھا۔چنانچہ بائیبل میں ملا کی نبی تک سب انبیاء کی کتب موجود ہیں۔جن کو وہ پڑھتے اور قابل عمل سمجھتے ہیں۔حتیّٰ کہ حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ جن کے آخر عمر میں مرتد ہونے کے وہ قائل ہیں ان کا ذکر بھی بائیبل میں موجود ہے اور ان کے اعمال کو نظر انداز کرتے ہوئے اُن کے کلام کی اُن میں اَب تک قدر پائی جاتی ہے۔اِسی طرح حضرت زکریاؑ اور یحییٰ ؑ کو بھی گووہ نبی تسلیم نہیں کرتے لیکن عالم اور نیک آدمی سمجھتے ہیں۔پس سب انبیاء کی عظمت کے وہ قائل ہیں گو بعض کو بحیثیت عالم اور نیک ہی مانتے ہیں لیکن حضرت مسیح ؑ کی نسبت اُن کا عقیدہ نہایت گندہ اور ناپاک ہے۔وہ آپ پر خطرناک الزام لگاتے ہیں اور نعوذ باللہ مفتری اور ملعون قرار دیتے ہیں۔پس یہود نے نبیوں کی جو مخالفت کی تھی اُس کا ذکر کرتے ہوئے ضروری تھا کہ حضرت مسیحؑ کا ذکر دوسرے انبیاء سے علیحدہ اور خاص طور پر کیا جاتا کیونکہ اُن کے ساتھ انہوں نے سب سے بُرا سلوک کیا تھا۔اور قرآن کریم کے نزول تک اپنے اس عقیدے پر قائم تھے کہ نعوذ باللہ آپ مفتری تھے۔اور صداقت سے آپ کو کوئی حصہ نہیں ملا تھا۔اسی طرح حضرت مسیح ؑ سے یہود کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کا بتلا دینا بھی ضروری تھا کہ گو یہود انہیں جھوٹا قرار دیتے ہیں لیکن وہ اپنے ساتھ صداقت کی وہ تمام علامتیں رکھتے تھے جو دوسرے راستباز انبیاء جن کی نبوت کے بنی اسرائیل قائل ہیں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔چنانچہ انبیاء کی صداقت کی زبردست علامات میں سے دو کو حضرت مسیح ؑ کے ذکر کے ساتھ بیان کر دیا جن میں سے پہلی علامت آپ کے ساتھ بینات یعنی کھلے کھلے نشانات کا ہونا ہے جو ہر نبی کی صداقت کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں اور دوسرے روح القدس کی تائید ہے کہ یہ بھی ہر نبی کے لئے ضروری ہے۔بینات اور روح القدس کا ذکر اس