تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 269

اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کا جواب دینے کے لئے حضرت حسّان ؓ کو فرمایا اور دُعا کی کہ اَللّٰھُمَّ اَیِّدْ ہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔اے خدا! روح القدس سے اس کی تائید فرما۔(مشکوٰۃ المصابیح باب البیان و الشعر و کنز العمال جلد ۷ صفحہ ۲۲،۲۳ ایڈیشن اول ) ایک اور روایت کے مطابق اُھْجُ الْمُشْرِکِیْنَ فَاِنَّ جِبْرِیْلَ مَعَکَ (بخاری کتاب المغازی باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب)یعنی اے حسّان ؓ !مشرکین کی ہجو کر جبریل تیرے ساتھ ہے۔پس حضرت مسیح ؑ کا روح القدس سے مؤید ہونا اُن کی کسی فضیلت کا ثبوت نہیں اس میں تمام انبیاء بلکہ غیر انبیاء بھی شریک ہیں۔اَور سب کو اپنے اپنے درجہ اور مقام کے مطابق رُوح القدس کی تائید حاصل ہوتی ہے۔حضرت معین الدین صاحب چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) جو امّتِ محمدیہ ؐکے ایک مسلّمہ بزرگ ہیں وہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ؎ دمبدم رُوح القدس اندر معینے می دمد من نمی دانم مگرمن عیسیٰ ءِ ثانی شدم (دیوان حضرت خواجہ معین الدّین صاحب چشتی صفحہ۵۶) یعنی رُوح القدس بار بار میرے اندر اس طرح نفخ ِرُوح کر رہا ہے کہ شاید مجھے عیسیٰ ثانی کا مقام حاصل ہو گیا ہے۔پس حضرت مسیح ؑ کا مؤید بروح القدس ہونا کوئی قابلِ تعجب امر نہیں۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے۔اور وہ یہ ہے کہ وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاَیَّدْنٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ میں اگر حضرت مسیح ؑ ناصری کی کوئی امتیازی خصوصیت بیان نہیں کی گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد باقی سب انبیاء کا مجموعی ذکر کرنے کے بعد حضرت مسیح ؑ کا علیحدہ ذکر کیوں کیا گیا ہے اور اُن کے متعلق یہ مخصوص طو رپر کیوں بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے عیسٰی ؑبن مریم کو بیّنات دیں اور اس کی رُوح القدس سے تائید کی؟ عیسائی تو اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چونکہ ان کو دوسرے انبیاء پر فضیلت حاصل تھی اور وہ دوسروں سے بالا مقام رکھتے تھے اس لئے ان کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے۔اگر وہ بھی رسول ہی ہوتے تو اُن کا الگ ذکر نہ کیا جاتا۔لیکن مفسرین یہ کہتے ہیں کہ چونکہ دوسرے انبیاء کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے بلکہ موسوی شریعت کے تابع تھے اس لئے ان کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی کے متبع نہیں تھے بلکہ وہ ایک نئی شریعت لائے تھے اس لئے ان کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے مگر یہ صحیح نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے خود کہا ہے کہ