تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 258

کو غلام بنانا حرام کیا ہوا ہے۔حالانکہ تم خود غیر یہودیوں کی مدد کر کے آپس میں جنگ کرتے ہو اور یہودیوںکو اُن کے ہاتھوں میں قید کرواتے اور اُن کو غلام بناتے ہو۔پس اِس سے زیادہ اور کیا شرارت ہو گی کہ تم ایک حصہ کتاب کو تو مانتے ہو اور ایک کو ردّ کرتے ہو۔ایک طرف یہودی غلاموں کو آزاد کرواتے ہو اوردوسری طرف خود ایسے اسباب پیدا کرتے ہو جن سے وہ غلام بنیں۔پھر تمہارا آپس میں تو کوئی جھگڑا ہی نہیں۔تم صرف ایک مشرک قبیلہ کی دوستی کی وجہ سے لڑتے ہو اور اپنے آدمیوں کو غیر مذاہب والوں کا غلام بنا کر کہتے ہو کہ ان کو چھڑانا چاہیے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب عرب کے قبائل یہودیوں کو طعنہ دیتے کہ تم یہ کیا کرتے ہو کہ خود پہلے جنگ کرتے ہو اور پھر فدیہ دے کر اور یہ کہہ کر کہ ہم میں یہود کا غلام بنانا ناجائز ہے ان کو چھڑاتے ہو تو وہ کہتے کہ ہمارے لئے ان سے لڑنا تو منع ہے لیکن ہمیں اپنے حلیفوں سے شرم آ جاتی ہے اور مجبوراً لڑائی میں شامل ہو جاتے ہیں اس لئے بعد میں فدیہ دے دیتے ہیں۔(محیط زیر آیت ھذا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے کا انکار کرتے ہو۔یعنی جو شخص ایک حصہ کتاب کو مانتا ہے وہ اپنے عمل سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اس کتاب کی صداقت کا قائل ہے۔پس اس کا دوسرے حصے کو ترک کرنا اس کے نفس کی گندگی پر دلالت کرتا ہے۔فَمَا جَزَآءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ۔فرماتا ہے کہ تمہارے جیسے لوگ جن کو اصلاح کے اِس قدر مواقع دیئے گئے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی باتوں سے اِس قدر واقف ہیں تمہیں سوائے اس کے اور کیا سزا دی جا سکتی ہے کہ ان جرائم کی وجہ سے تمہیں دنیا میں رسوا کر دیا جائے اور آخرت میں تو اس سے بھی زیادہ سخت عذاب کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ ایک بہت بڑی مرض جو انسان کی رُوح کو کھانے والی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے منشا اپنے خیالات اور اپنی آرزو کے مطابق مذہب کی جس بات کو دیکھتے ہیں صرف اُس پر عمل کرنا وہ اپنے لئے کافی سمجھ لیتے ہیں اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے کہ کئی اور احکام بھی ہیں جن کو وہ بڑی دلیری سے نظر انداز کر رہے ہیں۔چونکہ بنی نوع انسان کی عادات مختلف حالات اور مختلف صحبتوں کی وجہ سے بدلتی رہتی ہیں۔اس لئے ہر انسان اپنا ایک خاص ذوق رکھتا ہے جس کو وہ پورا کر لیتا ہے۔اور جو چیز اس کے ذوق کے خلاف ہو اُسے نظر انداز کر دیتا ہے۔اگر اپنے ملک کے مختلف علاقوں پر ہی نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا کہ بعض مقامات کے لوگ نمازوں کے زیادہ پابند ہوتے ہیں اور روزوں میں سُستی کرتے ہیں۔بعض جگہ کے لوگ زکوٰۃ تو بڑی پابندی سے دیتے ہیں مگر نماز اور روزہ کی پروا نہیں کرتے۔اِسی طرح بعض جگہ نماز اور روزہ کی تو پابندی کی جاتی ہے مگر زکوٰۃ کی طرف توجہ